لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک01مئی 2008)اولمپک مشعل اپنا عالمی سفر طے کرکے بدھ کو چین واپس پہنچ گئی ۔ اس موقع پر تقریب کا اہتمام کیا گیا اور گیت گائے گئے بیجنگ کے شہریوں نے اس تقریب میں شرکت کی ۔ بیجنگ میں کیتھولک چرچ میں اولمپکس کے کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے باقاعدہ دعائیں کرائی گئیں اور ان لوگوں کو بھی معاف کیا گیا جنہوں نے مشعل کے عالمی سفر کے دوران اس کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کیں اور عالمی سطح پر چین کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ حکام نے کہا ہم نے ان چیزوں کو بھلا دیا ہے ۔100دن کے بعد گیمز کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا۔گیمزکے انعقاد سے قبل اسٹیڈیم اور انفرااسٹرکچر کا کام ابھی مکمل کیا جانا ہے ۔ اس شہر میں انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے40 بلین ڈالر خرچ کئے گئے ہیں جس میں نئے ایئر پورٹ ٹرمینل اور سب وے لائنز شامل ہیں اس کے علاوہ2.1 بلین مالی اخراجات کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کہا کہ 100دن کے بعد گیمز کے انعقاد سے بیجنگ میں پرجوش ماحول کا قیام عمل میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شہر ایتھلیٹس، میڈیا اور شائقین کو خوش آمدید کہے گا۔ گزشتہ چند ماہ میں چین کی جانب سے اولمپک کے انعقاد پر مظاہرین نے عالمی سطح پر اس کے خلاف احتجاج کیا ۔ مختلف شہروں لندن ، سان فرانسسکو اور پیرس میں مظاہرین نے چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور تبت میں کریک ڈاؤن کے خلاف مشعل کی آمد پر بھر پور احتجاج کیا ۔ بدھ کو درجنوں فلپائنی باشندوں نے منیلا میں چین کے قونصل خانے پر چین کا تمسخر اڑانے کے لئے مشعل ریلی کا انعقاد کیا۔