کولکتہ (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک24-اپریل2008)انڈین پریمیئر لیگ کے دلچسپ اور اعصاب شکن مقابلے بھارت کے مختلف میدانوں پر جاری ہیں۔ فرنچائز ٹیم مالکان نے ایک دوسرے سے یکسر مختلف ثقافتوں کے حامل ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو ایک لڑی میں پرودیا ہے، جو کرکٹرز بین الاقوامی میچز میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگاتے دکھائی دیتے ہیں وہی آئی پی ایل میں ایک مقصد کے حصول میں سرگرداں ہیں، متنوع کلچر اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے پلیئرز کا آپس میں ذہنی طور پر ہم آہنگ ہونا مشکل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آئی پی ایل میں صلاحیت کے اعتبار سے تقریباً تمام ٹیمیں ہم پلہ ہیں لہٰذا لیگ کی فاتح وہی سائیڈ ہوگی جس کے غیر ملکی کھلاڑی مقامی کرکٹرز اور کنڈیشنز سے پوری طرح مطابقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے، اب تک میچز کا جائزہ لیا جائے تو آشکار ہوتا ہے کہ ٹورنامنٹ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کا عنصر کامیابی سے ہمکنار ہورہا ہے ۔ راجستھان رائلز کو ایونٹ کی سب سے کمزور ٹیم تصور کیا جاتا ہے، اس نے اپنے ابتدائی میچ میں شکست کھائی ہے ۔ٹیم کی قیادت شین وارن کے پاس ہے وہی اس کی کوچنگ بھی کررہے ہیں، انہوں نے دوسرے میچ میں کنگز الیون پنجاب کے خلاف میچ وننگ پرفارمنس پیش کی اور ساتھ دستیاب وسائل کو بہترین انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے کامیابی حاصل کرکے دیگر ٹیموں کو پیغام دیا ہے کہ اس ٹیم کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ دوسری جانب اس مرحلے پر دھونی کی چنئی سپر کنگز اور شاہ رخ خان کی کولکتہ نائٹ رائیڈرز مقبولیت اور کارکردگی کے لحاظ سے فیورٹ ہیں، دونوں ٹیموں نے ابتدائی میچز میں کامیابی حاصل کی ہے، نائٹ رائیڈرز کے پہلے میچ میں برینڈن میک کولم نے دھواں دار سنچری بنائی جبکہ حیدر آباد کے خلاف دوسرے مقابلے میں فتح آسٹریلوی اسٹار ڈیوڈ ہسی کی مرہون منت رہی۔ غیر ملکی کھلاڑیوں نے شاہ رخ کی توقعات پوری کی ہیں۔ بھارتی ون ڈے ٹیم اور چنئی سپر کنگز کے کپتان مہندرا سنگھ دھونی بھی اس بات سے متفق ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی اس بات کا تعین مشکل ہے کہ کون چیمپئن بنے گا کیونکہ ابھی ایونٹ شروع ہی ہوا ہے ، تاہم ٹورنامنٹ میں حتمی فتح اسی ٹیم کا مقدر بنے گی جس کے کھلاڑی آپس میں گھل مل کر ایک اکائی کی صورت اختیار کرلیں گے.