لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک24-اپریل2008)پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجراورڈالرز کے متلاشی طلعت علی کی لاعلمی پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب بن گئی طلعت علی جوکہ ٹیسٹ کرکٹر رہ چکے ہیں۔ فرسٹ کلاس کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھنے کے علاوہ آئی سی سی کے میچ ریفری رہ چکے ہیں لیکن انڈین پریمئر لیگ میں ان کی قوانین سے عدم واقفیت اور لاعلمی جگ ہنسائی کا سبب بنی۔ ٹیلیویژن کے کمنٹیٹر اور سابق ٹیسٹ کرکٹرز رابن جیکمن اور اجے جڈیجا نے اسے مذاق قرار دیا۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو طلعت علی حیدرآباد دکن میں دکن چارجرز کے کپتان وی وی ایس لکشمن اور دہلی کے کپتان ویریندر سہواگ کے ہمراہ ٹاس کے لئے گئے ۔ ٹاس کیلئے جب سکّہ اچھالا گیا تو طلعت علی لاعلم تھے کہ سکّے کی کس طرف ہیڈ ہے اور کس جانب ٹیل۔ سکہ جیسے ہی زمین پر گرا میچ ریفری دونوں کپتانوں کی جانب دیکھنے لگ گئے کیونکہ انہیں ہیڈ اور ٹیل کا علم نہ تھا، اس دوران ٹیلیویژن کے کمنٹیٹر رابن جیکمن نے انہیں بتایا کہ ٹاس کس نے جیتا ہے۔ ذرائع کے مطابق طلعت علی عمر کے اس حصے میں پہنچ گئے ہیں کہ وہ اس عہدے کیلئے فٹ نہیں ہیں۔ 57سال کی عمر میں وہ میچ ریفری کی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیں، وہ پاکستان کی جانب سے 10ٹیسٹ میچ اور 115فرسٹ کلاس میچ کھیل چکے ہیں،واضح رہے کہ طلعت علی کو آئی پی ایل کیلئے 25 ہزار ڈالرز کی ادائیگی کی جائے گی لیکن اس عرصے میں انہیں تنخواہ نہیں ملے گی۔ پی سی بی نے سابق ٹیسٹ اوپنر کو دو سال کیلئے قومی ٹیم کا فل ٹائم اور تنخواہ دار سلیکٹر مقرر کیا ہے۔ واضح رہے کہ طلعت علی کے دور میں پاکستان کرکٹ ٹیم اوپر تلے کئی تنازعات کی زد میں رہی لیکن انہیں کارکردگی کے صلے میں 45 دن کا معاوضہ 35 ہزار ڈالرز ملے گا۔ ایسے وقت میں جبکہ قومی ٹیم کی کوئی مصروفیت نہیں ہے طلعت علی پیڈ (Paid) ہالیڈیز پر ہیں جبکہ لاسن جمعرات کو سالانہ تعطیلات پر سڈنی چلے گئے ہیں۔ طلعت علی کی میچ ریفری کی حیثیت سے آئی پی ایل میں تقرری اس لحاظ سے حیران کن ہے کہ وہ دو ہزار ایک کے بعد سے میچ ریفری کے طور پر کہیں بھی دکھائی نہیں دیئے، اس وقت وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ دو سالہ معاہدے پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر کا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے طلعت علی کی میچ ریفری کی حیثیت سے آئی پی ایل میں تقرری کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کوئی بین الاقوامی مصروفیت نہیں ہے اور طلعت علی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے درخواست کی تھی کہ وہ چھٹی لے کر آئی پی ایل میں جانا چاہتے ہیں جس پر انہیں اجازت دے دی گئی ہے، تاہم وہ اس عرصے کے دوران منیجر کی تنخواہ نہیں لے سکیں گے۔ شفقت نغمی نے یہ بھی کہا کہ طلعت کلی منیجر تو اس وقت بنیں گے جب کوئی دورہ ہو گا فل ٹائم تو ٹیم بھی نہیں ہوتی ہے اور ٹیم بھی اسی وقت بنتی ہے جب کوئی سیریز ہوتی ہے۔ جب انہیں یاد دلایا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے طلعت علی کو دو سال کیلئے ٹیم منیجر مقرر کر رکھا ہے تو اس پر شفقت نغمی نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص چھٹی کی درخواست دیتا ہے کہ وہ اس عرصے کوئی اور کام کرنا چاہتا ہے لیکن وہ حکومت سے تنخواہ نہیں لے گا جس کی اسے اجازت دے دی جاتی ہے۔