نئی دہلی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک28-اپریل2008) ساتھی کھلاڑی سری سانت کو تھپڑمارنے پر ہربجھن سنگھ کے برے دن شروع ہوگئے ہیں ان پر تاحیات پابندی کے سائے منڈلارہے ہیں اورآج واقعے کی انضباطی سماعت ہورہی ہے،میچ ریفری فرخ انجینئر ان کا موقف سن کر تند مزاج آف اسپنر کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے ۔ سماعت میں ویڈیو فوٹیج اہم کردار ادا کرے گی، اگر فوٹیج کو ثبوت کے طور پر لیا گیا تو فیصلہ ہربھجن سنگھ کے خلاف جانے کا قوی امکان ہے، انہیں کم سے کم سزا کی صورت میں بھی پانچ ٹیسٹ یا10 ون ڈے انٹرنیشنل کی پابندی لگ سکتی ہے، آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت میں ہونے والے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں رونما ہوا لہٰذا وہ اس معاملے میں فریق نہیں ۔ انڈین پریمےئر لیگ کے کمشنر للت مودی کا کہنا ہے کہ کیمرے سے ہربھجن سنگھ کا سری سانتھ کو تھپڑ مارنا ثابت ہوتا ہے۔بھارتی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ہربھجن کے خلاف سخت کارروائی پر غور کیا جارہا ہے کیونکہ کسی بھی سطح کی کرکٹ میں کھلاڑیوں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہربھجن سنگھ نے اس واقعہ کے بعد کہا کہ سری سانتھ میرے چھوٹے بھائی ہیں اور مجھے اس واقعے پر شرمندگی ہے ۔ ہربھجن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قواعد کی شق 4 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔سماعت کے موقع پر ممبئی انڈینز کے کوچ لال چند راجپوت اور منیجر ہربھجن کی معاونت کیلیے موجود ہونگے جبکہ کنگز الیون پنجاب کی طرف سے شکایت کنندہ اور ٹیم کے سی ای او نیل میکسویل، کپتان یووراج سنگھ اور خود سری سانتھ پیش ہونگے، فریقین اپنے ساتھ ثبوت بھی لاسکتے ہیں۔دوسری جانب اس بات کی کوششوں کا بھی آغاز ہوگیا ہے کہ ہربجھن کو زیادہ سخت سزا سے بچایا جائے،اس جدجہد میں مصروف بعض افراد کا موقف ہے کہ تنازع میں ملوث دونوں کھلاڑی ہی جارحانہ طبیعت کے حامل ہیں، سری سانتھ نے میچ میں کامیابی کے بعد ہربجھن کو اشتعال دلایا جس کا ردعمل انہیں بھگتنا پڑا۔