نئی دہلی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک29-اپریل2008) ماضی ہمیشہ تنازعات کھڑے کرنے کے باوجود سزا سے بچ جانے والے ہربھجن سنگھ اس بار بچنے میں ناکام رہے اوراسے غصے کا خمیازہ بالآخر بھگتنا ہی پڑا، آف سپین کے سردار کہلوائے جانیوالے ہربجھن سنگھ کو ساتھی فاسٹ بولر سری سانتھ کو تھپڑ رسید کرنے کے جرم میں آئی پی ایل انتظامیہ نے ایونٹ کے باقی میچز میں شرکت سے روکنے کے ساتھ میچزکی فیس سے بھی محروم کرنے کی سزا سنادی،گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقع کی انضباطی کارروائی کرتے ہوئے میچ ریفری فرخ انجینئر نے آف اسپنر پر11 میچوں کی پابندی عائد کر دی، جس کے بعد ہربھجن سنگھ آئی پی ایل کے پہلے مرحلے میں کوئی میچ نہیں کھیل سکیں گے، تاہم ان کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچی تو وہ نمائندگی کے اہل ہوجائیں گے، تاہم ایسا ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ آئی پی ایل کے کمشنر للت مودی نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ ہربھجن سنگھ پر میچ فیس کا 100 فیصد اور ممبئی کی ٹیم کے کوچ پر 50 فیصد جرمانہ عائدکیا گیا ہے۔ مودی نے کہا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو لال چند راجپوت ہربھجن کے پیچھے موجود تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں روکا۔ ادھر بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے بھی ہربھجن سنگھ سے سری سانتھ کو تھپڑ مارنے کی وضاحت طلب کرلی ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل نرنجن شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات کیلئے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔سماعت کے دوران ویڈیو فوٹیج میں بغیرکسی اشتعال کے ہربھجن سے تھپڑکھانے والے سری سانتھ کو وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا جبکہ ہربھجن سنگھ کو بورڈ کی جانب سے بھی کارروائی کا سامنا ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری نرنجن شاہ نے پیرکو بتایا کہ ابتدائی انکوائری کے لیے وکیل سدھیر ناناوتی کی خدمات لی گئی ہیں جو15دن میں اپنی رپورٹ بی سی سی آئی کے صدر شرد پوارکے حوالے کریں گے اور وہ اپنی رپورٹ انضباطی کمیٹی کو دیں گے ۔