لاہور(سپورٹس رپورٹر)شعیب اختر پر عائد کردہ پانچ سالہ پابندی کے خلاف فاسٹ باؤلر کی جانب سے دائرکردہ اپیل سننے والی کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر)آفتاب فرخ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ فاسٹ باؤلر شعیب اختر آئی پی ایل کھیل سکتے ہیں ان پر کسی قسم کی پابندی نہ تو پہلے کسی نے لگائی تھی اور نہ ہی اب ان پر کوئی پابندی ہے۔انہوں واضح الفاظ میں کہاکہ شعیب اختر پر عائد پانچ سالہ پابندی پاکستان کی جانب سے اور پاکستان میں نہ کھیلنے کی ہے۔ لہذا جب آئی پی ایل کا اتنا بڑا میلا سجا ہوا ہے تو فاسٹ باؤلر کو اس سے محروم رکھنا زیادتی ہے انہوں نے کہاکہ اب یہ آئی پی ایل اور شعیب اختر پر منحصر ہے کہ وہ اسے ٹیم میں شامل کرتے ہیں یا نہیں مگر پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایپلٹ کمیٹی کی جانب سے فاسٹ باؤلر کی مکمل طور پر اجازت ہے کہ وہ بھارت جا کر آئی پی ایل کھیل سکتے ہیں جس کیلئے انہیں ضرورت کے وقت این او سی بھی جاری کردیا جائیگا۔فرخ آفتاب نے مزید بتایا کہ فاسٹ باؤلر پر عائد پانچ سالہ پابندی برقرار ہے جس کی سماعت اب جون کے اوائل میں ہوگی کیونکہ شعیب اختر پی سی بی کی جانب سے آئی پی ایل کے لیے کلیرنس ملنے کے بعد اب آئی پی ایل میں کھیلنے کیلئے بھارت جارہے ہیں لہذا ایک ماہ کے وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوگی۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفصر حسین رضوی کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کو آئی پی ایل کیلئے نہ تو پہلے سے کھیلنے سے روکا تھا اور نہ اب ہماری طرف سے اس پر کوئی پابندی عائد ہے انہوں نے کہا کہ فاسٹ باؤلر کی آئی پی ایل کی اجازت دئیے جانے کا یہ مطلب ہرگزنہ لیا جائے کہ کرکٹ بورڈ کا کیس کمزور ہوگیا ہے۔اس سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹس فرخ آفتاب نے کہاکہ شعیب اختر کا ٹریک ریکارڈ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اس نے کبھی نہ تو خود کوٹھیک کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ کبھی اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کیا ہے۔