لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک02مئی 2008)آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے ناقابل تخسیر بنانے والے عظیم کپتان کپتانسٹیووا بھارتی لیگ سپنر ہربجھن سنگھ پر آئی پی ایل کے11میچز کی پابندی پر بھی راضی نہیں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ آف سپن کے سردار کو بین الاقومی کرکٹ کھیلنے سے روکنا چاہیے ،ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش قسمت ہے کہ اسے معمولی سزا کا سامنا کرنا پڑا ۔ قبل ازیں انہوں نے ہربھجن کو ان کے ٹیم کے کھلاڑی سری سانتھ کے ساتھ تنازع پر انہیں بد قسمت قرار دیا تھا ۔ سٹیووا نے کہا کہ انہیں حدود سے تجاوز کرنے کی سزا دی گئی ہے، ہربھجن ماضی میں بھی بارہا اس قسم کے واقعات میں ملوث رہے ہیں لیکن انہیں ہر بار بڑی کارروائی سے محفوظ رکھنے کی کوششیں کی گئیں ۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں آپ کو کبھی بھی دوسرے کرکٹر پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے، یہ بہت بُری بات ہے ، مجھے اسپنر کے طرز عمل پر بہت افسوس ہوا تھا لیکن ہر بھجن بہت خوش قسمت ہے کہ صرف اس پر11میچز کی پابندی لگی ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہا ر معذور بچوں کے گھر اڈیان میں کیا ۔ اسٹیو واہ ان کی فلاح بہبود کے لئے گزشتہ آٹھ سال سے سرگرم عمل ہیں ۔انہوں نے ہر بھجن سنگھ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی اسپنر کئی تنازعات میں ملوث رہے ہیں اور اب انہیں اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اوردیگر ایشوز پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے آئی پی ایل کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک کاروباری وینچر ہے اور اس میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ چین اور ملائشیا جیسے ممالک میں بھی کرکٹ کے فروغ میں مدد فراہم کرسکتی ہے جہاں کرکٹ زیادہ مقبول نہیں ۔انہوں نے لیگ کے ذریعے کرکٹ کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کیلیے بھارتی کرکٹ بورڈ کی خدمات کو سراہا ۔ انہوں نے ویلز اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان کے کھلاڑیو ں پر آئی پی ایل میں شرکت پر پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بورڈ 20 ٹوئنٹی کھیل کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔