لاہور (سپورٹس رپورٹر) قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر شعیب اخترپر عائدپانچ سالہ پابندی اگلے ایک ماہ کیلئے معطل کردی گئی ہے اور وہ اب آئی پی ایل کھیل سکتے ہیں۔گزشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہنگامی سماعت کے بعدفاسٹ باؤلر پر عائد 5سالہ پابندی کے خلاف دائرکردہ اپیل کی سماعت کرنیوالے تین رکنی ایپلٹ ٹربیونل کے سربراہ جسٹس (ر)آفتاب فرخ نے پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے شعیب اختر کی جانب سے دائرکردہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے فاسٹ باؤلر پر 4جون تک گزشتہ کمیٹی کیجانب سے سنائی گئی 5سالہ پابندی کی سزا کو معطل کردیا جسے پاکستان کرکٹ بورڈ نے قبول کرتے ہوئے سزا معطل کرنے پر اعتراض کرنے سے گریز کیاہے۔فاسٹ باؤلر شعیب اختر جنہیں ڈسلپن کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے پانچ سال تک پاکستان کی جانب سے اور پاکستان میں ہرطرح کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی کا سامنا تھا وہ اس پابندی کی وجہ سے آئی پی ایل کھیلنے سے بھی محروم ہوگئے تھے کیونکہ آئی پی ایل نے موقف اختیار کیا تھاکہ کوئی بھی کھلاڑی جسے اپنے ملک کی جانب سے کھیلنے پرپابندی لگی ہو وہ آئی پی ایل کا حصہ نہیں بن سکتا تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایپلٹ ٹربیونل کی جانب سے واضح طور پر شعیب اختر کو بیرون ملک کرکٹ کھیلنے کیلئے کلیئرکرنے کے باوجودبھی آئی پی ایل نے فاسٹ باؤلر کو بھارت میں سجے کرکٹ میلے میں شرکت کی اجازت دینے سے انکارکردیا تھا ،اجس پر شعیب اختر نے ایپلٹ ٹریبونل سے درخواست کی کہ پی سی بی کی جانب سے لگائی جانیوالی پابندی کی وجہ سے اسے آئی پی ایل نے کھلانے سے انکارکردیاہے جس سے انہیں مالی نقصان پہنچ رہا ہے ،اس درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ہفتے کے روزایپلٹ کمیٹی نے ایک روز بعد شعیب کی درخواست پر غور کرنے کیلئے لاہور میں اجلاس بلایااور شعیب اختر کی سزا کو ایک ماہ کیلئے معطل کردیا ۔ایپلٹ کمیٹی کے دورکن حسیب احسن جوفلائیٹ عدم دستیابی اور سلمان تاثیر نجی مصروفیات کی وجہ سے گزشتہ روز ہونیوالی سماعت میں شرکت نہ کرسکے جس پر ایپلٹ کمیٹی کے سربراہ نے اپنی معاونت کیلئے سنیئر وکیل خواجہ سلطان کی خدمات حاصل کیں اور ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت میں فاسٹ باؤلر شعیب اختر سمیت ان کے وکلاء کے علاوہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل حسین رضوی نے بھی حصہ لیا۔سماعت کے بعد پریس کانفرنس میں ایپلٹ کمیٹی کے سربراہ جسٹس آفتاب فرخ نے کہاکہ کمیٹی کے دیگر رکن سلمان تاثیر نے ٹیلی فون کرکے اپنی طرف سے میرے فیصلے کی حمایت کا اعلان کیاہے جبکہ حسیب احسن سے ان کا رابطہ نہ ہوسکا تاہم دو رکن کی مشاورت اور حمایت سے بھی فیصلہ دیا جاسکتا ہے اس لیے ہم نے شعیب اختر کی سزاہ کو باہمی مشورے سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جسٹس آفتاب فرخ نے کہاکہ فاسٹ باؤلر پر لگائی جانیوالی گزشتہ کمیٹی کی سزاکو 4جون تک معطل کردیا گیاہے اس عرصہ میں پاکستان یا پاکستان میں بھی شعیب اختر کھیلنے کے اہل ہیں تاہم یہ فیصلہ محض آئی پی ایل کیلئے شعیب اختر کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کمیٹی کے فیصلے کی کاپی شعیب اختر خود لیکر آئی پی ایل حکام کو پیش کرینگے مگر انہیں امید ہے کہ میڈیا کے ذریعے بھی آئی پی ایل حکام کو اس فیصلے کے بارے میں بھی علم ہوگیا ہوگا۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفصل حسین رضوی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے خیرسگالی کے طور پر شعیب اختر کی سزا ایک ماہ کیلئے معطل کرنے پر اعتراض نہیں اٹھایا چونکہ پہلے بھی شعیب اختر پر بیرون ملک کھیلنے پر پابندی نہیں تھی لہذا اس بار سزا معطل کرنے کی بنیادی وجہ شعیب کیلئے انڈ ین پر ئمیر کیلئے راستہ ہموار کرنا ہے اس لیے ہم نے کمیٹی کے فیصلے کو چیلنج کرنے سے گریز کیا ہے۔تاہم چار جون کے بعد وہ کمیٹی سے فاسٹ باؤلر پر عائد پابندی کو پانچ سال تک برقرار رکھنے کی سفارش کرینگے۔