لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک06مئی 2008) قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین مصباح الحق بنگلور رائلز چیلنجرز کی جانب سے ان دنوں آئی پی ایل کھیلنے میں مصروف ہیں اوران سے پی سی بی نے وضاحت طلب کی ہے جس میں ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس کی اجازت سے شراب بنانے والی کمپنی کا لوگو استعمال کررہے ہیں۔بنگلور رائلز چیلنجر کی نمائندگی کرنے والے مصباح دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ شراب بنانے والی کمپنی کا لوگو اپنی شرٹ پر استعمال کررہے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح کا معاہدہ بنگلور رائلز چیلنجر سے کرانے کے بعد مصباح سے وضاحت طلب کی ہے۔پی سی بی کا کہنا ہے شراب بنانے والی کمپنی کا لوگو استعمال کرنے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بور ڈکے چیف ایگزیکٹو آفیسر شفقت نغمی نے کہاہے کہ بورڈ کسی بھی کھلاڑی کو الکوحل اورتمباکو کے فروغ دینے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دیتااور کھلاڑیوں کو اس قسم کے برانڈ کی کمرشل میں شمولیت پر کلیرنس حاصل کرنا ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہاہے کہ بورڈ اس معاملے کی مزید جانچ کرے گا یہ وضاحت اس لئے حیران کن ہے کہ بنگلور کی ٹیم وجے مالایا نے خریدی ہے ارب پتی تاجر کی کئی کمپنیوں میں سے ایک کمپنی بھارت میں شراب بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ بنگلور کی ٹیم اسی شراب کمپنی کا لوگو استعمال کررہی ہے۔ مصباح نے ابھی تک دو میچز میں شرکت کی ہے۔ پاکستانی نائب کپتان کو ابتدائی میچوں سے ڈراپ کردیا گیا تھا۔ پاکستان ٹیم کے گذشتہ دورہ بھارت میں پاکستانی کوچ جیف لاسن ایک بھارتی ٹی وی کو بھاری معاوضے کے عوض جو انٹرویو دیتے تھے اس دوران لاسن شراب بنانے والی کمپنی کا لوگو لگاتے تھے۔ اس بارے میں جب پاکستانی ٹیم کے منیجر طلعت علی سے رابطہ کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کو نظر انداز کردیا تھا۔ جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم کا بھی شراب بنانے والی کمپنی سے معاہدہ ہے لیکن مسلمان کھلاڑی ہاشم آملہ نے یہ سخت گیر موقف اپنایا کہ وہ اس وقت تک جنوبی افریقا کی نمائندگی نہیں کریں گے جب تک ان کی شرٹ سے لوگو کو ہٹا نہ دیا جائے۔