کول کتہ(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک13مئی 2008) 468کروڑ روپے کی سب سے مہنگی دکن چارجز کی ٹیم انڈین پریمیئر لیگ سے مایوس کن انداز میں باہر ہوگئی۔ سیمی فائنل میں اس کی پیش قدمی کی تمام ترکوششیں ناکام ہوگئیں جبکہ اس جیت کے ساتھ ہی کول کتہ کی شاہراہوں پر جشن منایا گیا جبکہ اسٹیڈیم میں نائٹ رائیڈرز کی چیئرلیڈرز پر مقامی تماشائیوں نے اپنی بھڑاس پتھراؤ کرکے نکالی۔ چیئر لیڈرز پر ہونے والے پتھراؤ نے مقامی تماشائیوں کے جذبات کی ترجمانی کی اور انہیں جشن منانے کا موقع نہ دیا۔ چیئر لیڈرز کا اسٹیج پتھراؤ سے ویران ہوگیا اور انہیں جان بچانے کے لیے میدان کے وسط میں آنا پڑا۔ مشتعل اور جذباتی تماشائی شکست خوردہ ٹیم کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ شاہ رخ خان کی ٹیم نے انہیں ایک اور تحفہ دیا، میچ میں کپتان کی کارکردگی نمایاں رہی۔ ایڈم گلکرسٹ، ہرشل گبز، اینڈریو سائمنڈز، اسکاٹ اسٹائرس ، شاہد آفریدی اور چمندا واس جیسے کھلاڑیوں کی موجودگی میں اس فرنچائز کو اچھی خبر نہ مل سکی۔ ایڈم گلکرسٹ نے شکست کی ذمے داری اپنے کھلاڑیوں خاص طور پر بولروں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ آخری چھ اوورز میں بننے والے ایک سو رنز شکست کا سبب تھے۔ ہمارے بولروں کی کارکردگی خراب رہی، ہوم گراؤنڈ پر مایوسی کے سائے رہے اور مایوس کن کارکردگی سے ہماری باڈی لینگویج کا اندازہ ہوتا تھا۔