اعجازوسیم باکھری :
آسٹریلیا کے خلاف ذلت آمیزشکست کھانے کے بعد قومی ٹیم لاہور اور کراچی ائیرپورٹ کے چوردوروازوں سے وطن واپس پہنچ گئی ہے اور کرکٹ بورڈ کی اعلیٰ انتظامیہ نے اپنی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے انتخاب عالم کوکوچنگ کے عہدے سے برطرف کرکے اعجازاحمد کو نیا کوچ مقرر کردیا ہے جبکہ انتخاب عالم کے ساتھ ساتھ عاقب جاوید کو بھی ہٹادیا گیا ہے لیکن کرکٹ بورڈ نے تاحال یہ واضع نہیں کیا کہ انتخاب عالم اور عاقب جاوید کو مستقل بنیادوں سے کوچنگ سے ہٹایا گیا ہے لیکن موجودہ صورتحال یہ پیغام دے رہی ہے کہ انتخاب عالم کا دوبارہ کوچ بننا مشکل ہے۔جہاں کرکٹ بورڈ نے دبئی میں انگلینڈ کے خلاف 2ٹونٹی ٹونٹی میچز کیلئے انتخاب عالم کو کوچنگ کے عہدے سے برطرف کیا ہے وہیں شعیب ملک کو دو میچز کیلئے کپتان بھی مقرر کردیا ہے۔شاہد آفریدی کو ٹیم میں شامل رکھا گیا ہے وہ سیریز کا آخری میچ بطور آل راؤنڈرکھیلیں گے،امید ہے آفریدی جب دبئی کے سپورٹس سٹی سٹیڈیم میں بطور کھلاڑی میدان میں اتریں گے انہیں آسٹریلیا کے خلاف سیب کی طرح بال کھانے کے جرم کا شدید ادراک ہوگا کیونکہ آخری مرتبہ وہ دبئی میں بطور کپتان نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلیں گے لیکن وقت نہ تو کسی کا محتاج ہے اور نہ ہی مستقل کسی کا ساتھ دیتا ہے ،البتہ ہاں وقت جن لوگوں کو مواقع عطاکرتا ہے تو کم از کم ان لوگوں کا ساتھ بھی دیتا ہے جو وقت اور موقع کی قدر کرتے ہیں لیکن چونکہ آج کے دور میں جس کسی کو بھی کامیابی ملتی ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ شاید میری اپنی کوالٹی سے یہ سب کچھ ممکن ہوا ہے اور وہ اُس کامیابی کے نشے میں اس قدر اپنے ہواس کھو بیٹھتا ہے کہ وہ غلطیاں بھی کررہا ہوتا ہے تو اُسے ادراک نہیں ہوتا کہ میں کیا کررہا ہوں اور میرے سے کیا غلطیاں ہورہی ہیں۔شاہد آفریدی کی بھی یہی داستان ہے کہ قدرت نے اُسے اُس کی ناقص کارکردگی کے باوجود پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کا شرف عطا کیا لیکن موصوف نہ تو خود کو ملنے والے موقع کی قدرکرسکے اور نہ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کی لاج رکھی جس نے اُس جیسے شخص کو کپتان کا بنایا۔کہتے ہیں اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے جس کا عملی مظاہرہ آسٹریلیا کے خلاف آخری ون ڈے میچ میں دیکھا گیا جہاں آفریدی صاحب نے اپنے پاؤں پے خودکلہاڑی ماردی حالانکہ میچ کی صبح اُس نے محمد یوسف کو کھلائے جانے کی شدید مخالفت کی اور ایک سازش کے تحت یوسف کو اشتعال دلاکر اُسے باہربیٹھنے پر مجبور کیا اور خود ون ڈے ٹیم کے کپتان بن کر میدان میں اترے۔بطور کپتان اور کھلاڑی ہم ہمیشہ آفریدی کیلئے دعاگو رہے ہیں اور رہیں گے لیکن بطور پاکستانی انہیں یہ ہرگززیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ساتھی کھلاڑی کے ساتھ کوئی سازشیں کریں۔امید ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کی ون ڈے ٹیم کا کپتان بننے کی سازش کو ناکام بنایا ہے وہ مستقبل میں کوئی ایسی حرکت نہیں کریگا۔آفریدی کو سزا دئیے جانے اور پھرمیڈیا میں اس کی حرکت کی مذمت کرنے پر اُس کے پرستارخاصے رنجیدہ ہیں کہ کیا ہوا اگر اُس سے غلطی ہوئی ہے دوسرے بھی تو ایسے حرکات کرتے ہیں ۔دراصل بات یہ ہے کہ آفریدی کے ساتھ ہم سب کی ہمددریاں ہیں لیکن اُس نے کپتانی حاصل کرنے کیلئے جو جو جتن کیے وہ اُسے زیب نہیں دیتے، آفریدی کو تو یونس خان سے سبق سیکھنا چاہئے تھا کہ جو ہمیشہ کپتانی سے دوربھاگتا ہے اور قیادت ہرباراُس کا تعاقب کرتی ہے لیکن چونکہ آفریدی کی یہ بچپن سے خواہش تھی کہ وہ پاکستان کا کپتان بنے اس کیلئے اُس نے کئی گروپ بنائے اور کئی بارٹیم کا نقصان کیا لیکن اگر وہ بطور کھلاڑی احتیاط سے کھیلتا اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا تو انضمام الحق کے بعد وہی کپتان بن سکتا تھا کیونکہ پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ یا تو سینئر کھلاڑی کو کپتان بنایا جاتا ہے یا پھر جو سب سے بہترکارکردگی پیش کررہا ہوں لیکن آفریدی نے اپنی کارکردگی کو بہتربنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ کپتانی کیلئے ہمیشہ کوششیں کی اور جب کپتانی مل گئی تو انہوں نے جو حرکت کی اُس سے نہ صرف پاکستان کرکٹ ٹیم بدنام ہوئی بلکہ پاکستانی جھنڈے کی بھی تذلیل ہوئی۔
ہمارے کرکٹ بورڈ کے فیصلے بھی نرالے ہوتے ہیں۔جب اعجازبٹ نے چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سبنھالہ تو شعیب ملک کو یہ کہہ کرکپتانی سے برطرف کردیا تھا کہ وہ بہت سے بڑا سازشی ہے اوراُس کی وجہ سے دو گروپس میں تقسیم ہوکررہ گئی ہے۔مگر اب ایک بار پھر کرکٹ بورڈ نے اُسی سازشی کو ٹیم کا کپتان بنا دیا۔گوکہ موجودہ حالات میں شعیب ملک کو اچھی چوائس کہا جاسکتا ہے لیکن بہت اچھی چوائس نہیں کیونکہ موصوف کا ٹریک ریکارڈ بھی ہم سب کے سامنے ہے ۔یہی صاحب تھے جن کی وجہ سے پاکستان کے 20کھلاڑی آئی سی ایل میں چلے گئے تھے لیکن اس وقت چونکہ بورڈکی مجبوری ہے اور اُسے کپتان بنانا پڑگیا ہے ۔اب شعیب ملک پر منحصر ہے کہ وہ کیسا کپتان ثابت ہوتا ہے ۔دوسری جانب کرکٹ بورڈ نے اس بار آسٹریلیا کے خلاف شکست کا سارا ملبہ کامران اکمل پر ڈال اسے قربانی بکرا بنادیا حالانکہ آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹونٹی ٹونٹی میچ میں کامران اکمل نے سب سے زیادہ 64رنز بنائے لیکن چونکہ بورڈ کو ہربار شکست پر ایک قربانی کے بکرے کی ضرور ت ہوتی ہے اور وہ اس بار کامران اکمل بنے ۔
بہرحال :ورلڈکپ سے پہلے شعیب ملک اور اس کی ٹیم کیلئے انگلینڈ کے خلاف دو ٹونٹی ٹونٹی میچز کی سیریز ایک مشکل ٹاسک ہے ،دیکھنا ہوگا وہ کہ وہ اور اُس کی ٹیم کس حد تک اس ٹاسک میں سرخرو ہوتی ہے۔