UrduPoint Sports

کھیل >> قومی و صوبائی کھیل >> مضامین >> لندن اولمپکس میں پاکستانی دستے کا خالی ہاتھ سفر ختم

اعجازوسیم باکھری :
ایک اور اولمپکس گزر گیا ۔۔۔۔۔۔لیکن پاکستان کے ہاتھ کوئی میڈل نہ آیا،یہ مسلسل پانچویں اولمپکس ہیں جن میں پاکستان کے ہاتھ کوئی میڈل نہیں آسکا۔ پاکستان کا اولمپکس زوال 1992ء سے شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔پاکستان 1992ء ،1996ء،2000ء ،2004ء ،2008ء اور2012ء کے اولمپکس میں کوئی میڈل نہیں جیت سکا جبکہ کھیلوں کی وزارت ہونے اور اس شعبے پر سالانہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اچھے نتائج نہ آنا لمحہ فکریہ ہے۔ دنیا کی خوش قسمتی اور پاکستان کی بدقسمتی دیکھیئے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں گولڈ میڈلز کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور سب کی کوشش ہے کہ وہ اتنے زیادہ گولڈ میڈل لے تاکہ اس کا نام سے نمایاں ہو اور ہماری بدقسمتی دیکھیئے کہ ہم گولڈ میڈل تو درکنار سلور یا کانسی کا تمغہ بھی نہیں جیت سکے۔ انتظامیہ اور ارباب اختیار ہیں کہ وہ اس ذلت پر بھی مطمئن ہیں کیونکہ وہ اولمپکس گیمز کی آڑ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ لندن کی سیرکرنے میں تو کامیاب ہوگئے۔ کرپٹ ، چور اور بے ایمان لوگ جب فیڈریشنز میں ہوں تو قومیں اسی طرح دنیا کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد کے ممالک میڈل جیت رہے ہیں جبکہ ہم سے کئی درجہ نچلی سطح پر سمجھے جانے والے ممالک بھی میڈلز کے حصول میں کامیاب رہے ہیں لیکن ہماری قسمت میں ایسی کوئی خوشی نہیں لکھی ہوئی جو دوسرے ممالک کو نصیب ہورہی ہے۔
پاکستان1948 ء کے لندن اولمپکس سے اب تک صرف10 تمغے ہی حاصل کرسکا۔ پاکستان نے 15 اولمپکس میں اب تک11کھیلوں میں حصہ لیا لیکن صرف 3 کھیلوں ہاکی ، باکسنگ اور ریسلنگ میں 10 تمغے ہی ہاتھ آسکے۔ ان میں 3 طلائی ،3 نقرئی اور 4 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ پاکستان نے تینوں طلائی تمغے ہاکی میں جیتے۔ گرین شرٹس کو یہ کامیابیاں1960 کے روم ،1968کے میکسیکو اور1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں ملیں۔ ہاکی میں پاکستان نے 3 سلور اور 2 برانز میڈلز بھی حاصل کئے۔ دیگر2بر انزمیڈلز ریسلنگ اورباکسنگ میں آئے۔ لندن اولمپکس میں پاکستان نے شوٹنگ ، تیراکی ، ایتھلیٹکس اور ہاکی میں حصہ لیا لیکن ایک میڈل بھی پاکستان اپنے سینے پر نہ سجاسکا۔ شوٹنگ میں خرم انعام خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے ، پاکستانی تیراک انعم بانڈے تیراکی میں ناکام ہوئیں تو ایتھلیٹ لیاقت علی بھی کچھ نہ کرسکے ۔خاتون ایتھلیٹ رابعہ عاشق کو بھی800 میٹر دوڑ کی ہیٹ میں ناکامی ہوئی۔
ہاکی ٹیم سے سب کو میڈل کی توقع تھی لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن میں نحوست کے ایسے سائے موجود ہیں جو ڈھلنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ گزشتہ اولمپکس میں پاکستان نے آٹھویں پوزیشن حاصل کی تھی اور اب چار سال کی محنت اور 56کروڑ سے زائد رقم خرچ کرکے صرف ایک رینک بہتر ہوئی یعنی پچھلی بار آٹھویں پوزیشن تھی اور اب ساتویں پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔ فیڈریشن کے لوگ تو اسی پر بھی راضی ہیں کہ کچھ بہتر تو ہوئی تو لیکن انہیں کیا معلوم پاکستان قوم گزشتہ دو ہفتوں سے کس طرح حسرت بھری نگاہوں سے دنیا کے دیگر ممالک کے میڈلز کو دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کی جو تذلیل ان اولمپکس میں ہوئی شاید ہی اس سے پہلے ہوئی ۔ ہاکی فیڈریشن کی من مانیوں اور اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کی وجہ سے قوم کو اس بار بھی شرمندگی کے سوا کچھ نہ ملا۔
پاکستان کی ایک پوری جنریشن اس انتظار میں ہے کہ وہ بھی اپنی زندگی میں اولمپکس میڈلز میں کامیابی کا نظارہ کرسکیں۔ میری پیدائش 1987ء میں ہوئی اور پاکستان نے آخری بار 1984ء میں گولڈ میڈل جیتا۔ اپنی 25سالہ زندگی میں کم از کم میں نے پاکستان ہاکی ٹیم کو تاریخی کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے نہیں دیکھا ، گوکہ 94ء میں پاکستان نے ورلڈ جیتا لیکن جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے تذلیل کا ہی سامنا کرنا پڑا۔نئی نسل کے لاکھوں نوجوان اس فخر اور خوشی سے محروم ہیں جو انہیں اپنی زندگی میں ملنا چاہے تھا ، اگر ہم دوسری دنیا کو دیکھیں تو لوگ کامیابیاں حاصل کررہے ہیں اور ہم شرمندگی ، آخر اس جنریشن کا بھی حق ہے کہ وہ اپنی ٹیموں پر فخر کرسکیں اور انہیں بھی خوشی حاصل ہو، نئی نسل کو مزیدکب تک انتظار کرنا پڑیگا اس کا جواب شاید ہی کوئی دے سکے۔

     
مرکزی صفحہ آگے