UrduPoint Sports

کھیل >> کرکٹ >> کرکٹ ورلڈ کپ2011 >> مضامین >> کرکٹ، ہاکی، فٹبال،سب کھیلوں کا برا حال۔۔ان کا احتساب کون کریگا ؟

اعجازوسیم باکھری:
پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کھیلوں کے ساتھ حکومتی سطح سے لیکر فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز کی سطح تک سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ حکومت ہرسال کھیلوں کی ترقی کیلئے بجٹ کا اعلان تو کردیتی ہے لیکن وہ بجٹ جاری کب ہوتا ہے کس کو ملتا ہے اس کا حساب کتاب کسی کے پاس نہیں ہے۔ آج بھی ایسے کئی کھیل ہے جن کیلئے حکومت ہزاروں روپے یعنی ایک لاکھ سے کم رقم فنڈز کی صورت میں جاری کرتی ہے لیکن کھیلوں کے سرپرست اداروں کا یہ حال ہے کہ صرف ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد اور عہدوں کو انجوائے کرنے کرحد تک اقدامات کیے جاتے ہیں جس سے ملک میں سوائے کرکٹ کے دیگر کھیلوں کا برا حال ہے۔ کرکٹ میں پیسہ تو عام ہے لیکن سلیکشن کے معیار شاید دیگر کھیلوں کی طرح بدتر ہے۔ پسند نہ پسند کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرکے ٹیم کو باہر بھیجا جاتا ہے اور ٹیم کی کارکردگی ایسی ہوتی ہے کہ شائقین خوشی کے لمحے کو ترستے رہتے ہیں۔
پاکستانی کھیلوں اور کھلاڑیوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ تمام کھیلوں کے ادارے چلانے والے سیاسی لوگ ہیں۔ سیاسی اثرورسوخ کی بنا پر انہیں اداروں پر مسلط کیا جاتا ہے اور میڈیا میں ’ان‘ رہنے کیلئے انہیں نیچے کا سٹاف جو بھی مشورہ دیتا ہے یہ بچارے اسے مانتے ہیں مگر اس سے ان کا ذاتی نقصان تو نہیں ہوتا البتہ پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے اور شائقین کے دل ٹوٹتے ہیں۔ پاکستانی کھیلوں کا یہ المیہ رہا ہے کہ جہاں ایک طرف سے بنے سنورے کھلاڑیوں کو بیکار کرنے کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے تو دوسری جانب نئے کھلاڑیوں کی تلاش کی آڑ میں من پسند پلیئرز کو آگے لانے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں۔ ایک طرف نااہل کھلاڑیوں کو نوازا جاتا ہے تو دوسری جانب اہل کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی کا تسلسل بھی نہیں ٹوٹتا۔ کوئی کھلاڑی تگڑی سفارش کی بنا پر طویل عرصہ ٹیم کے ساتھ بے کار وقت گزار جاتا ہے تو اہل کھلاڑی ڈومیسٹک سطح پر ایڑیاں رگڑ رگڑکر بڑھے ہوجاتے ہیں لیکن انہیں حق نہیں دیاجاتا کیونکہ ان کے پاس کوئی تگڑی سفارش نہیں ہوتی۔
ابھی حال ہی میں قومی ٹیم نے سری لنکا کیخلاف سیریز کھیلی، چار ون ڈے میچز میں سے صرف ایک میں قومی ٹیم کو کامیاب نصیب ہوئی جبکہ تین میچز میں سفارشی کھلاڑیوں نے شائقین کو صدمہ کے سوا کچھ نہ دیا۔ محمد سمیع کی سلیکشن پر اب ہرجگہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں لیکن جب موصوف کو جب پانچ سال کے طویل عرصہ بعد ون ڈے ٹیم میں شامل کیا گیا تب کسی سابق کھلاڑی نے آواز نہیں اٹھائی۔ سمیع کے آخری اوور میں سری لنکن بلے باز میتھیوز نے جس روانی کے ساتھ رنز بنائے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کسی سکول کرکٹ کے باؤلر کا سامنا کررہا ہو۔ اگر پانچ سال بعد محمد سمیع کو ہی منتخب کرکے ٹیم کو تذلیل کروانی تھی تو محمد ارشاد طویل عرصہ سے گرین شرٹ پہننے کے انتظار میں بیٹھا ہے اسے کیوں موقع نہیں دیا گیا؟گوکہ پاکستان ایشین چیمپئن ہے لیکن سری لنکا کیخلاف ٹیم کی کارکردگی جس طرح مایوس کن رہی اس کے بعد اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ میرٹ پر ٹیم کا انتخاب کیا گیا تھا تو شاید اس بڑا مذاق کوئی نہیں ہوگا۔ پی سی بی کے چیئرمین ذکاء اشرف ذاتی طور پر کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والے شخص ہیں اور ان سے ایسی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ میرٹ کے قتل عام میں شامل ہونگے۔ مگر ان کا سلیکشن کمیٹی کو اس طرح کھلی چھوٹ دینا درست نہیں کہ چیف سلیکٹر جو چاہیں کرتے پھریں ۔ٹی ٹونٹی ورلڈکپ سرپر آچکا ہے اور اگر اسی طرح چلے ہوئے کارتوس چلانے کی بار بار کوشش کی گئی اور تجربات سے گریز نہ کیا گیا تو شائقین کے ٹوٹے ہوئے دل بکھیر جائیں گے ۔
ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے لیکن اس کھیل نے قوم کو جتنے صدمات گزشتہ کچھ سالوں میں دئیے شاید ہی کسی اور کھیل نے دیئے ہوں۔ سیاسی اثر ورسوخ اور جیالہ ازم نے قومی کھیل کر شیزازہ بکھیر دیا ہے ۔ لندن اولمپکس سرپر آچکے ہیں لیکن فیڈریشن تاحال تجربات میں الجھی ہوئی ہے۔ اذلان شاہ میں قومی ٹیم کی ساتویں پوزیشن تھی جس کے بعد فیڈریشن نے سر پر کھڑے اولمپکس گیمز میں شرمناک کارکردگی کا پہلے ہی سے اندازہ لگاتے ہوئے اپنا ٹارگٹ ہی تبدیل کردیا۔ فیڈریشن کا موقف ہے کہ ہمارا ٹارگٹ لندن اولمپکس نہیں بلکہ 2014ء میں ہونیوالا ورلڈ کپ ہے۔ حالانکہ جب ورلڈکپ 2010ء میں قومی ٹیم کی 12ویں پوزیشن آئی تھی تو فیڈریشن نے کہاتھا کہ ہم تو اولمپکس کیلئے ٹیم تیار کررہے ہیں ۔ بار بار ٹارگٹ بدلنا اور تجربات کرنا بظاہر یوں لگتا ہے کہ جیسے فیڈریشن اچھی طرح جانتی ہے کہ ان کی ٹیم میں اتنا دم نہیں کہ وہ کچھ کرسکے ۔ محض اقتدار کو طول دینے اور کرسی سے جڑے رہنے کیلئے ٹارگٹ کو تبدیل کرنا اب پی ایچ ایف کا وطیرہ بن چکا ہے اور ہاکی شائقین بچارے ہربار امیدیں لگائے رکھتے ہیں اور ٹیم کی بدترین کارکردگی پر پہلے سے زیادہ مایوسی سہہ کراگلے ٹورنامنٹ کا انتظار شروع کردیتے ہیں مگر فیڈریشن کے عہدیدار ہیں کہ وہ ہشاش بشاش نظر آتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اگر ہاکی فیڈریشن میرٹ پر ٹیم کا انتخاب کرے اور ٹیم مینجمنٹ میں دوستوں کو نوازنے کی بجائے اہل لوگوں کو آگے لائے تو شکست کے آسیب سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔ میرٹ کا قتل عام صرف ہاکی یا کرکٹ میں ہی نہیں ہورہا ۔ سائیکلنگ ، فٹبال ، باکسنگ ، سوئمنگ ، اتھلیکٹس سمیت سبھی کھیلوں میں پسند نا پسند پالیسی چلتی ہے ۔ حکومتی عدم دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ احتجاج ، ٹیم کی ناقص کارکردگی، کھیلوں کے اداروں میں کرپشن ، افسران کی نااہلی کی خبروں پر ایکشن لینے کی بجائے انہیں مکمل اعتماد دیا جاتا ہے جس سے انہیں حوصلہ ملتا ہے اور وہ کھلاڑیوں کی ڈٹ کر حوصلہ شکنی کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقینہے کہ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں اور جہاں پوچھنے والا کوئی نہ ہو وہاں کامیابی کے خواب دیکھنا بھولا پن نہیں تو اور کیا ہے۔

     
مرکزی صفحہ آگے