قومی کرکٹ ٹیم کے نوجوان کپتان شعیب ملک کا شمار عصرحاضرکے صف اوّل کے آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے وہ کھیل کے تینوں شعبوں میں یکساں مہارت کے حامل کھلاڑی ہیں۔ انضمام الحق کے منصب پر فائز ہونے والا یہ نوجوان آف سپنراپنے کیرئیر کے آغاز ہی سے ثقلین مشتاق کے سائے جکڑا دکھائی دیا ۔تاہم اس نے بڑی آسانی کے ساتھ جونیئر کرکٹ سے سینئر کرکٹ کی جانب سفرکیا۔ اور وقت نے اسے قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت جیسے معتبر منصب پر لاکھڑا کیا جو کہ ملک کے خوابوں کی تعبیر ہے ،قومی ٹیم میں آنے کے بعد اس کے ساتھ قسمت وہی کھیل کھیلتی رہی جو ماضی کے دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلی۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس طرح عبدالقادر کی موجودگی میں مشتاق احمد کو ٹیم میں جگہ بنانے کیلئے سخت جدوجہد کرنا پڑی۔بالکل اسی طرح شعیب ملک کو بھی ثقلین کی موجودگی میں اپنی شناخت بنانے کیلئے مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم یہ ملک کی خوش قسمتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح ٹیم کے ساتھ رہا جس سے خاطر خواہ تجربہ اس کے اندر منتقل ہوتا رہا۔کبھی ان اور کبھی آؤٹ کی پالیسی کی بدولت وہ موقع ملنے پر بولنگ میں تو کسی کو متاثر کرنے میں ناکام نظر آیا لیکن اس طرح کی صورت حال نے اسکی بیٹنگ میں نکھار پیدا کردیا۔اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اوپنر سے لیکر چھٹے نمبر تک ٹیم مینجمنٹ کے نئے اور انوکھے فیصلوں کی بھینٹ چڑنے کے بعد بھی آج تک قومی ٹیم کا کپتان یہ نہیں جان سکا کہ وہ اگلے میچ میں کس پوزیشن پر بیٹنگ کریگا۔
یکم فروری 1982ء کو ”شہر اقبال “سیالکوٹ میں پیداہونے والے شعیب ملک نے خودکو عالمی سکرین تک لے آنے کیلئے جونیئر کرکٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں انتھک محنت کی اور محض محنت ہی نہیں کی بلکہ میرٹ بھی پیش کیا۔جس کی بدولت اسے اکتوبر 99ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ کرکٹ گراؤنڈپر ایک روزہ کرکٹ کیلئے میدان میں اتارا گیا جہاں” ملک “نے مذکورہ ٹورنامنٹ میں 9وکٹیں حاصل کرکے اپنا انتخاب درست ثابت کردیا۔ثقلین مشتاق کے ایکشن سے گیندکرانے والے شعیب ملک کو کیرئیر کی ابتداء میں بہت سی مشکلات پیش آئیں سب سے پہلے ٹیم میں جگہ بنانا اس کیلئے نمایاں حیثیت رکھتی تھی۔کبھی ثقلین اور کبھی ارشد خان کی وجہ سے اسے کبھی موقع ملتا اور کبھی نظر انداز کیا جاتا رہا تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں اس نے اپنی شاندار کارکردگی کے سلسلے کو روکنے نہ دیا اور خود کو ایک کامیاب آل راؤنڈر کےطور پر منوانے کیلئے ملک نے کھیل کے تینوں شعبوں میں اپنا کارکردگی کا لوہا منوایا۔ایشن ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شعیب ملک کوٹیسٹ کیپ پہنائی گئی یہی وہ عرصہ تھا جب نسل پرست امپائروں نے اس پر ”بال تھرو“کا الزام لگایا اور کئی بارشعیب ملک نے اپنا ایکشن تبدیل کیا جس سےوہ وٹہ مارنے کے کیس سے تو بری ہوگیا مگر اس کی بولنگ میں وہ بات نہ رہی جس کی وہ پہچان رکھتا تھا،لیکن اس کے باوجود شعیب نے ہمیشہ بہترین بولنگ کرکے اپنی ٹیم کو کئی میچز میں فتح سے ہمکنار کرایا،گوکہ آجکل کے زمانے میں اب اس کا ایکشن ثقلین جیسا تو نہیں رہا لیکن وہ ثقلین کی کمی پوری کرنے کی بھرپورکوشش میں مگن رہتا ہے اور ساتھ ساتھ بطورکپتان بھی وہ اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہے جس میں اب تک وہ اپنی ٹیم کو کوئی بڑا ایونٹ تو نہیں جتوا سکا مگر جس مشکل حالات میں اسے کپتانی ملی تھی وہ اپنی ٹیم کو ان مشکلات سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوچکا ہے،شعیب ملک جتنا موثر بولر ہے اس سے کہیں زیادہ وہ قابل اعتبار بیٹسمین بھی ہے۔اسے پہلے پہل اوپنر بیٹسمین کی حیثیت سے آزمایا گیا لیکن ناکامی کی صورت میں اس کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کردیا گیا پھر اس طرح ایک طویل سلسلہ چل نکلا کہ کبھی اسے اوپنر کبھی ون ڈاؤن اور کبھی چھٹے نمبر پر بیٹنگ کیلئے بھیجا جانے لگا ۔ کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں شعیب ملک کی بدقسمتی رہی کہ ٹیم مینجمنٹ نے کبھی اسے ایک ہی پوزیشن پر نہیں کھیلنے دیا جس سے اس کی بیٹنگ کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی لیکن راویت کے مطابق کسی نے اس طرف دھیان دینا مناسب ہی نہیں سمجھا کہ ایک نوجوان ہر باربیٹنگ آرڈر کی تبدیلی کی وجہ سے بربادی کی طرف جارہا ہے۔لیکن اس کے باوجود وہ ایک باصلاحیت کھلاڑی کے طور پر اپنا لوہا منوا چکا ہے جس کا ثبوت اس نے کم عمری میں قومی ٹیم کی قیادت سنبھال کر پیش کیا۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شعیب ملک ایک باصلاحیت کپتان اور مکمل آل راؤنڈر ہے جو بطور بیٹسمین،فیلڈر اور ایک موثر آف سپنر کے طور پر پاکستانی ٹیم کی کامیابی کیلئے جدوجہد میں مگن نظر آتا ہے اور اگر ایک کپتان کی حیثیت سے شعیب ملک کی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو اس بات کا واضح احساس ہوتا ہے کہ وہ ابھی مکمل طورپر کپتانی کے گر نہیں سیکھ پایا مگر اس کا حوصلہ اور ہمت اس بات کا واضح ثبوت پیش کرتی ہیں کہ شعیب ملک آنے والے دنوں میں خود کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے کامیاب ترین کپتانوں کی فہرست میں شامل نظر آئے گا...تحریر.....اعجاز وسیم باکھری
تاریخ پیدائش:1982-02-01 مقام پیدائش:Sialkot, Punjab بیٹنگ سٹائل:دائیں ہاتھ كا بلے باز باولنگ سٹائل:دائیں ہاتھ كا باولر