لاہورخود کش حملوں کی کڑیاں القاعدہ سے ملتی ہیں، تحقیقاتی ادارے:
لاہور(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین14 مارچ 2008 ) تحقیقاتی اداروں نے کہا ہے کہ لاہور میں ہونے والے خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کئی ماہ پہلے کی گئی تھی جن کی کڑیاں القاعدہ اور بیت اللہ محسود سے ملتی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی آئی ڈی پنجاب چوہدری عبدالمجید کی زیر صدارت اور ڈی سی او لاہور میاں اعجاز کے گھر ہونے والے اجلاسوں میں تحقیقاتی اداروں نے بتایا کہ دونوں خود کش بم دھماکوں میں طالبان کمانڈر ملا داد اللہ کا باڈی گارڈ سرگودھا کا رہائشی حافظ محمد طیب اور ایک عرب باشندہ ابو از میری ملوث ہیں جو بیت اللہ محسود سے براہ راست رابطے میں ہیں ۔ ان دونوں نے مل کر کئی ماہ پہلے اس کارروائی کی منصوبہ بندی کی تھی ۔تفتیشی ٹیموں کے مطابق اردو اور پشتو روانی سے بولنے والا ازمیری اس وقت شمالی وزیرستان میں ہے اور حافظ محمد طیب اس کی طرف سے ملنے والے احکامات پر دہشت گردی کی کارروائیاں کراتا ہے۔تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں کالعدم تنظیم کا رکن قاری ظفر بھی ملوث ہوسکتا ہے جسے کچھ عرصہ پہلے گرفتار کر کے ماڈل ٹاوٴن میں اسپیشل انوسٹی گیشن گروپ کے آفس میں رکھا گیا تھا جو بعد میں پولیس کی حراست سے فرار ہوکر وزیرستان میں روپوش ہوگیاہے۔ تحقیقاتی ٹیموں کے مطابق خودکش دھماکوں میں مسروقہ گاڑیاں استعمال ہورہی ہیں ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے