لاہور میں خود کش حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں کوئی ٹھوس پیشرفت نہ ہوسکی، پنجاب بھر سے ستر سے زائد افراد گرفتار، انوسٹی گیشن سینٹر شہری آبادیوں سے دور منتقل کرنے کا فیصلہ:
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13مارچ۔2008ء)لاہور میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے بعد تحقیقاتی اداروں کے انوسٹی گیشن سنٹر شہری آبادیوں سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورت میں شہریوں کے جان و مال کا نقصان کم ہو ۔ بتایا گیا ہے کہ ماڈل ٹاون میں خودکش دھماکے کے بعد ماڈل ٹاون کمیونٹی نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ ماڈل ٹاون جیسے پوش رہائشی علاقے سے ایسے تمام انوسٹی گیشن سنٹر باہر منتقل کئے جائیں کمیونٹی ذرائع کے مطابق اس وقت صرف ماڈل ٹاون میں مختلف تحقیقاتی اداروں کے آٹھ انوسٹی گیشن سنٹر کام کر رہے ماڈل ٹاون کمیونٹی نے مالکان کو بھی سختی سے منع کیا ہے کہ وہ گھر ایسے افراد کو کرائے پر نہ دیں جو رہائش اختیار نہ کریں ۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی اداروں کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ان تمام باتوں کو زیر بحث لانے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ایسے تمام انوسٹی گیشن سنٹر جو ماڈل ٹاون ، گلبرگ سمیت دیگر رہائشی علاقوں میں ہیں باہر منتقل کئے جانے چاہئیں جس پر عمل درآمد بہت جلد شروع ہوجائے گا ذرائع نے بتایا کہ خودکش دھماکوں کا ابھی تک سراغ تو نہیں لگایا جا سکا تاہم تحقیقات کے لئے کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کی پنجاب بھر سے گرفتاریاں جاری ہیں اور جو کارکن بہت پہلے کالعدم تنظیموں سے لاتعلقی اختیار کر چکے ہیں ان سے بطور گارنٹی پچیس لاکھ روپے کے گارنٹی بانڈ بھروانے کے بعد انھیں رہا کر دیا جائے گا ا ۔انوسٹی گیشن ذرائع کے مطابق لاہور کے علاوہ ضلع بھکر ، جھنگ ، فیصل آباد ، سرگودھا اور خانیوال سمیت پنجاب کے متعدد اضلاع سے کالعدم تنظیموں کے ستر سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کے کارکنوں کی مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں اور اس سلسلہ میں سیکٹیرین برانچ فہرست مرتب کر رہی ہے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے