لاہور میں ایف آئی اے کی عمارت اور ایڈوائرٹائزنگ ایجنسی کے دفتر پر دو خود کش کار بم دھماکے ، 28افراد جاں بحق، 266زخمی۔صدر نے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔اپ ڈیٹ:
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11مارچ۔2008ء)لاہور میں ایف آئی کی عمارت اور ماڈل ٹاوٴن میں دو خودکش کاربم دھماکوں میں دو بچوں سمیت اٹھائیس افراد جاں بحق اور دو سو چھیاسٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ زخمیوں میں اسکول کے چالیس سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔صدر پرویز مشرف نے دہشت گردی کی ان وارداتوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔پہلا حملہ ایف آئی اے کی عمارت پر کیا گیا،یہ دھماکہ انتہائی شدید تھا۔جس کے نتیجے میں آٹھ منزلہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اس واقعے میں چوبیس افراد جاں بحق اور دو سو ساٹھ کے قریب زخمی ہوئے ہلاک ہونیوالے میں بڑی تعدادایف آئی اے اہلکاروں کی ہے۔لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق دونوں دھماکوں میں دو سو چھیاسٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک سو چھیاسٹھ افراد کو ابتدائی طبی امداد دے کر فارغ کردیا گیا جبکہ دیگر سو سے زائد مریضوں کو گنگارام، میو اور سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ دھماکے سے قریبی اسکول اور دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ درجنوں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔ایف آئی اے کی عمارت پر ہونے والا حملہ ملکی تاریخ کا شدید ترین حملہ بتایا گیا ہے ، جس سے عمارت تباہ ہوچکی ہے ، اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے ۔ اس حملے میں پچاس کلو گرام سے زائد بارود استعمال کیاگیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس مقام پر بارہ فٹ چوڑااور چھ فٹ گہرا گڑھا پڑگیا، جائے وقوعہ پر امدادی کارروائی جاری ہے ، جبکہ ایف آئی اے کے چار اہلکاروں کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے ۔ دوسرا دھماکہ ماڈل ٹاؤن میں ایک ایڈوائرٹائزنگ ایجنسی میں ہوا، جہاں ایک خود کش بمبار نے بارود سے بھری وین ایجنسی کے دفتر سے ٹکرادی۔ اس واقعہ میں دو بچوں اور ایک خاتون سمیت چار افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے ۔ اس حملے میں تیس کلو گرام سے زائد بارود استعمال کیا گیا۔
کیپٹل سٹی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی ملک محمد اقبال نے ایف آئی اے بلڈنگ ٹیمپل روڈ اور ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے خود کش حملوں کی تفتیش کیلئے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن چوہدری تصدق حسین کی سربراہی میں دو خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو ان افسوسناک واقعات کے مختلف پہلوؤں کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے تفتیش کے دائرہ کار کو آگے بڑھائے گی ۔ ٹیم میں ایس پی سی آئی اے چوہدری مسعود عزیز ، ایس پی سول لائنز احسن یونس ،ایس پی انوسٹی گیشن کینٹ بابر بخت قریشی ،ایس پی ماڈل ٹاؤن عمران احمر ، ایس پی انوسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن عظمت اللہ گوندل ، ایس پی سیکورٹی حسین حبیب امتیاز، ایس پی اوریس کورس ، ایس پی اوماڈل ٹاؤن ، ایس ایچ او سول لائنز و ماڈل ٹاؤن اور انچارج انوسٹی گیشن سول لائنزوماڈل ٹاؤن شامل ہیں۔ خود کش حملوں کی اطلاع ملتے ہی کیپٹل سٹی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی ملک محمد اقبال ، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن چوہدری تصدق حسین اور ایس ایس پی آپریشن ڈاکٹر طارق کھوکھر اور دیگر سینئر افسران فوری موقع پر پہنچ گئے اور موقع سے ضروری شواہد و معلومات اکٹھی کیں ۔ کیپٹل سٹی پولیس چیف ملک محمد اقبال نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے بلا ناغہ انہیں آگاہ کریں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے