لاہور دھماکہ 2008ء میں دہشت گردوں کی دسویں بڑی کارروائی:
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین11 مارچ 2008 )لاہور میں ایف آئی اے آفس اور ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے رواں سال کے دوران دہشت گردوں کی دسویں بڑی کارروائی تھی جبکہ سال کا تیسرا مہینہ ابھی شروع ہوا ہے تفصیلات کے مطابق سال رواں کے آغاز میں دس جنوری کو لاہور میں ہی ایوان عدل کے قریب اس وقت دھماکہ ہوا جب وکلاء کی ریلی وہاں پہنچنے والی تھی اس واقعہ میں 24 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہوئے چودہ جنوری کو قائد آباد کراچی میں ایک بم دھماکہ ہوا جس میں دس افراد جاں بحق ہوئے سترہ جنوری کو پشاور میں ایک امام بارگاہ کے باہر خودکش حملہ کیا گیا جس میں بارہ افراد جاں بحق ہوئے چار فروری کو راولپنڈی میں ایک خودکش حملہ آور نے اپنی موٹر سائیکل حساس ادارے کی بس سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں دس افراد جاں بحق اور ستائیس زخمی ہوئے نو فروری کو چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی ریلی پر حملہ ہوا جس میں پچیس افراد جاں بحق اور پینتیس زخمی ہوئے گیارہ فروری کو میران شاہ میں ایک امیدوار کی ریلی کے دوران حملہ ہوا جس میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے سولہ فروری کو پارہ چنار میں پی پی پی کے حمایت یافتہ امیدوار کے انتخابی جلسہ کے موقع پر حملہ ہوا جس میں 47 افراد جاں بحق اور ایک سو پچاس زخمی ہوئے پچیس فروری کو راولپنڈی میں مال روڈ پر ایک خودکش حملے میں پاک فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق احمد بیگ شہید ہوئے انتیس فروری کو کھاریاں میں ایک فوجی تربیتی مرکز پر حملہ کیا گیا جس میں دو افراد جاں بحق ہوئے اور منگل کو لاہور میں یہ دہشت گردی کی رواں سال میں دسویں بڑی کارروائی تھی جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 30 کے قریب افراد جاں بحق اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے