لاہور میں دو انتہائی زور دار دھماکوں سے بچوں سمیت 30سے زائدافراد جاں بحق ، سو سے زائد زخمی،ایف آئی اے کی عمارت تباہ، زخمیوں میں اسکول کے چالیس سے زائد بچے بھی شامل ۔اپ ڈیٹ:
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین11مارچ۔2008ء)لاہور میں دو انتہائی زور دار دھماکوں سے بچوں سمیت 30سے زائد افراد جاں بحق اور سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں اسکول کے چالیس سے زائد بچے بھی شامل ہیں دھماکے خودکش کار بم حملے بتائے جاتے ہیں۔ پہلا حملہ ایف آئی اے کی عمارت پر کیا گیا،یہ دھماکہ انتہائی شدید تھا۔جس کے نتیجے میں آٹھ منزلہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اس واقعے میں 30 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ دھماکے سے قریبی اسکول اور دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے ، اور زخمیوں میں اسکول کے چالیس سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔جن میںآ ٹھ بچے شدید زخمی ہیں۔ جبکہ درجنوں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔ایف آئی اے کی عمارت پر ہونے والا حملہ ملکی تاریخ کا شدید ترین حملہ بتایا گیا ہے ، جس سے عمارت تباہ ہوچکی ہے ، اور متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔عمارت کے آٹھویں فلور پر قیدی موجود ہیں۔جنھیں نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ دوسرا دھماکہ ماڈل ٹاؤن میں بیرسٹر اعجاز بٹالوی کی رہائش گاہ پر ہوا، جہاں ایک وین ان کے بنگلے سے جاٹکرائی ۔ اس واقعے میں دو بچے جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوگئے ۔دھماکے سے اعجاز بٹالوی کی رہائش گاہ کے ساتھ والا ایس پی چیمہ گھر بھی تباہ ہوگیا ہے ۔ دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کو جناح اور گنگا رام اسپتال پہنچایا گیا ہے


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے