لاہور‘ایف آئی اے ریجنل آفس اور ماڈل ٹاؤن میں دو خود کش حملے‘ 24 افرادجاں بحق ‘ 50 1سے زائد زخمی۔ایف آئی اے آفس میں 15 اہلکار بھی جاں بحق‘عمارت مکمل طور پر تباہ‘ماڈل ٹاؤن میں ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی نشانہ بن گئی:
لاہور(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین11 مارچ 2008 )صوبائی دارالحکومت میں دو خود کش حملوں میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 24 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں جاں بحق افراد میں ایف آئی اے کے 15 اہلکار اور 3 کمسن بچے بھی شامل ہیں یہ دھماکے ساڑھے نو بجے کے قریب صرف چند منٹ کے وقفے سے ہوئے جس سے پورا علاقہ لرز اٹھا اور دھماکوں کی آوازیں کئی کلو میٹر تک سنی گئیں دھماکوں سے درجنوں گاڑیاں تباہ اور بڑی تعداد میں قریبی دفاتر اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور لاہور بھر میں تاجروں نے احتجاجا کاروبار بند کر دیا-
دھماکوں کے بعد میو ہسپتال‘سروسز ہسپتال‘گنگا رام ہسپتال اور جناح ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور عملے کو ہنگامی طور پر واپس بلا لیا گیا جبکہ بڑی تعداد میں لوگ خون کا عطیہ دینے کیلئے بھی وہاں جمع ہو گئے-اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ مال روڈ کے قریب فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے ) کی سات منزلہ بلڈنگ میں ہوا جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 15 اہلکاروں سمیت 20 افراد جاں بحق اور 100سے زائد زخمی ہوئے جن میں کئی زیر حراست انسانی سمگلنگ کے ملزمان بھی ش امل ہیں-اس دھماکے سے قریبی سکول کو بھی شدید نقصان پہنچا اور متعدد بچے زخمی ہو گئے جنہیں قریبی ہسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا۔ڈی آئی جی لاہور تصدق حسین نے میڈیا کو بتایا کہ اس دھماکے کے بعد ایف آئی اے کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے اور بڑی تعداد میں کھڑی ہوئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا- انہوں نے بتایا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس عمارت میں 20 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
جنہیں ہسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا ہے-ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ایف آئی اے آفس سے ٹکرا ئی گئی اس قسم کے پہلے بھی کئی واقعات ہو چکے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور جی پی او میں ہونیوالے دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں- ایف آئی اے بلڈنگ میں ہونیوالا دھماکہ اس قدر شدید تھاکہ قریب واقع کئی عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں اور آگ لگنے کی وجہ سے پارکنگ میں کھڑی 12گاڑیاں جل کر خاک بن گئیں ۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ‘ ضلعی انتظامیہ ‘ ایمبولیسنز سروس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دی ۔ دھماکہ اس قدر شدید تھاکہ اسکی آواز ایک کلو میٹر کے اردگرد تک سنی گئی اور قریبی عمارتیں اور دکانیں تباہ ہو گئیں اور مال روڈ پر واقع دکانوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
دوسرا واقعہ ماڈل ٹاؤن میں ہوا جہاں معروف قانون بیرسٹر اعجاز بٹالوی کی رہائشگاہ کے قریب ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے دوخود کش حملہ آوروں نے اپنی گاڑی ٹکرا دی اس واقعہ میں دونوں حملہ آور اور دو بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہو گئے ۔ عینی شاہدین کے مطابق دو حملہ آوروں نے ایک گاڑی اعجاز بٹالوی کے صاحبزادے کی ایڈ ورٹائزنگ ایجنسی کی بلڈنگ سے ٹکرا دی جس کے نتیجہ میں بلڈنگ تباہ ہونے کے ساتھ اسکے پیچھے واقع ایک مالی کا کوارٹر بھی متاثر ہوا جس میں مالی اکرم کے دو بیٹے جن کی عمریں چھ سے آٹھ سال بتائی گئی ہیں جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک گیٹ کیپر صابر بھی اس حملے میں جاں بحق ہو گیا ۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں حملہ آور بھی اس میں مارے گئے ۔دھماکے میں مالی اور اسکی بیوی شدید زخمی ہیں ۔اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں سے 96 کو گنگا رام ہسپتال‘46 کو میو ہسپتال اور باقی زخمیوں کو سروسز اور جناح ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے-


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے