افغانستان میں نیٹوفورسز کو سامان کی ترسیل شروع،خوازہ خیلہ میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر خود کش حملہ، 4 اہلکار جاں بحق،باجوڑ ایجنسی میں جیٹ طیارو ں کی بمباری سے 5شدت پسند ہلاک:
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17نومبر۔2008ء) پاکستان نے افغانستان میں نیٹو فورسز کو ایندھن اور دیگر سامان کی ترسیل کے لئے طورخم سرحدکھول دی ہے ۔ حفاظتی دستے قافلوں کے ہمراہ ہوں گے ۔ خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے سینئر عہدیدار کے مطابق اب قافلوں کی حفاظت کے لئے سیکورٹی فورسز کی گاڑیاں اور مسلح دستے ساتھ ہوں گے ۔ افغانستان میں نیٹو فورسز کو ایندھن، خوراک اور دیگر سامان کی ترسیل طورخم سرہد سے کی جاتی ہے ۔ لیکن گزشتہ ہفتے عسکریت پسندوں نے درجن سے زائد ٹرک اغوا کر کے لوٹ لئے تھے جس کے بعد پاکستانی حکام نے ہفتے کی شب طور خم سرحد سے نیٹو فورسز کو سامان کی فراہمی عارضی طور پر روک دی تھی۔ادھرباجوڑ ایجنسی کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ زور بندر میں جیٹ طیارو ں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس سے پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے ۔ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ ادھر پولیٹیکل انتظامیہ سے مذاکرات کے لئے ماموند سے خار آنے والے قبائلی جرگہ اراکین کو شدت پسندوں نے عنایت کلے کے مقام پر روک لیا ہے ، دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے ۔ شدت پسند مورچہ بند ہو گئے ہیں۔تحصیل ماموند ، ڈمہ ڈولہ ، زور بندر اور تحصیل سلارزئی کے علاقہ بانڈہ میں شدت پسندوں کے خلاف فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ جبکہ سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں چار سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور پانچ اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہو گئے ۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ اسپتال خوازہ خیلہ منتقل کردیا گیا ہے ۔ حملے کے بعد سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے کرفیو نافذ کردیا ہے ۔ سوات میں شدت پسندوں کی جانب سے دھمکی کے بعد کیبل نشریات بھی معطل کردی گئی ہیں۔ سوات میں امن کمیٹی کا وفد کالعدم تنظیم کے ساتھ بات چیت کے بعد صوبائی حکومت سے مذاکرات کے لئے روانہ ہوگیا۔ تحصیل کبل میں گیارہویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے