باجوڑ ایجنسی:مقامی طالبان کا خار کا محاصرہ کرکے نواحی علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے اور 15 اہلکاروں کو جاں بحق اور پانچ کو یرغمال بنانے کا دعوی۔ لوئی سم اور اطراف میں طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی شدید بمباری ،جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ، بڑے پیمانے پر نکل مکانی شروع، لوئی سم سے ملنے والی چار اہلکاروں کی لاشیں پشاور منتقل کر دی گئی:
باجوڑ ایجنسی (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین10 اگست2008 ) باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے صدر مقام خار کو چاروں طرف سے محاصرے میں لینے ، اس کے نواحی علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں کنٹرول سنبھالنے اور 15 سیکورٹی اہلکاروں کو جاں بحق اور پانچ کو یرغمال بنانے کا دعوی کیا ہے ۔جبکہ جیٹ طیاروں اور گن ہیلی کاپٹروں نے شدت پسندوں کا مبینہ محاصرہ ختم کرنے کیلئے لوئی سم اور اطراف کے علاقوں پر شدید بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ مقامی حکام نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ طالبان نے صدر مقام خار کے نواحی علاقوں حاجی بوانگ، جار، ملا کلی ، پلانگ، صدیق آباد پھاٹک اور مامین پر قبضہ کرنے کے بعد ان علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند اب خار بازار سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہیں اور وہ تیزی سے پیش قدمی کررہے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طالبان نے خار کے اطراف میں زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سڑک کے کنارے مورچے اور چیک پوسٹیں قائم کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو صبح سے طالبان سڑکوں پر موجود ہیں اور ہر آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشیاں لے رہے ہیں جبکہ لوگوں کے شناختی کارڈ بھی چیک کئے جارہے ہیں۔ لوئی سم کے علاقے میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی دن سے جھڑپیں جاری تھیں جس کے بعد مقامی طالبان نے ہفتہکو لوئی سم کے علاقے پر قبضہ کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔ مقامی حکام کے مطابق طالبان کا محاصرہ ختم کرنے کیلئے اتوار کی صبح جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے لوئی سم سے ٹانگ خطاں تک چھ کلومیٹر کے فاصلے پر طالبان کے ٹھکانوں پر تازہ حملے کئے ہیں تاہم اس میں ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں بمباری کا سلسلہ جاری تھا۔ دریں اثناء مقامی طالبان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار کو چاروں اطراف سے گرے میں لے لیا ہے۔ طالبان ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے مرکزی مہمند باجوڑ شاہراہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور ضلع دیر کی سرحد تک یہ سارا علاقہ ان کے قبضے میں آگیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ طالبان نے تاحال خار پر کسی قسم کا حملہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی صبح خار کے نواحی علاقوں میں گھروں میں پناہ لئے ہوئے پندرہ سکیورٹی اہلکار کو ہلاک جبکہ پانچ کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ تاہم پاک فوج کے حکام سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ادھر باجوڑ میں جھڑپوں کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے بے سر وسامانی کے عالم میں خواتین اور بچوں سمیت محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ دیر اور پشاور کی طرف نقل مکانی کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ لوئی سم کے علاقے میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی دن سے جھڑپیں جاری تھیں جس کے بعد مقامی طالبان نے سنیچر کو لوئی سم کے علاقے پر قبضہ کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔ اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ’سکیورٹی فوسز لوئی سم کا علاقہ خالی کر کے واپس صدر مقام خار پہنچ چکی ہیں۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق لوئی سم کے مقام طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کے جیٹ طیاروں نے بمباری کی جس سے کئی زور دار دھماکوں سے گونج اٹھے جبکہ دوسری جانب طالبان نے کئی مقامات پر نئے مورچے بنا لئے ہیں باجوڑ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر خار سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقعے علاقے لوئی سم میں جیٹ طیاروں نے بمباری کی جس سے پورے علاقے میں زور دار دھماکے ہوئے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے