اورکزئی ایجنسی میں کامیاب مذاکرات کے بعد طالبان نے 29میں سے 8مغوی اہلکار وں کو امن جرگہ کے حوالے کردیا۔ باجوڑ میں دومینہ اور ککہ پاس ایف سی قلعوں پر طالبان نے قبضہ کرلیا۔ہنگو اور باڑہ میں آپریشن کے دوران القاعدہ کے اہم کمانڈر امجد اور رفیع سمیت 35 جنگجو گرفتار کئے ، آپریشن میں سیکورٹی فورسز کے 17 جوان شہید ہوئے ، مشیر داخلہ ۔اپ ڈیٹ:
ہنگو(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25جولائی۔2008ء)اورکزئی ایجنسی میں کامیاب مذاکرات کے بعد طالبان نے انتیس میں سے آٹھ مغوی اہلکار وں کو امن جرگہ کے حوالے کردیا ہے ۔ جرگہ کے ارکان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت سے ہفتہ کے روز انتظامیہ کو آگاہ کریں گے ۔ ایم پی اے مفتی سعید جانان کی قیادت میں پندرہ رکنی امن جرگہ اورکزئی ایجنسی میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد واپس ہنگو پہنچ گیا ہے ۔ طالبان کے ترجمان مولوی عمرنے نامعلوم مقام سے نجی ٹی وی کو بتایا کہ آٹھ مغویوں کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہاکیا گیا ہے ۔ اگر حکومت مذاکرات میں مخلص ہے تواس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی بصورت دیگر ہم کارروائی پر مجبورہوں گے ۔ دریں اثناء باجوڑ میں سیکورٹی فورسزکی طرف سے خالی کردہ دومینہ اور ککہ پاس ایف سی قلعوں پرطالبان نے قبضہ کرلیاہے ۔ ادھر دو آبہ میں تیرہویں روز پہلی بار صبح دس سے شام چار بجے تک کرفیو میں وقفہ دیا گیا ۔ گزشتہ روز امن مذاکرات میں پیش رفت کے بعد سیکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان فائر بندی پر رضا مند ہوگئے تھے ۔ آپریشن کے بعد ہنگو کے علاقوں زرگری، چپڑی نریاب اور دیگر علاقوں میں شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے ۔ ادھر مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ہنگو اور باڑہ میںآ پریشن کے دوران القاعدہ کے اہم کمانڈر امجد اور رفیع سمیت پینتیس جنگجو گرفتار کیے گئے ۔ چکلا لہ ائیر بیس پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کے سترہ جوان شہید ہوئے ۔رحمان ملک نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد صوبہ سرحد میں خود کش حملوں میں 80 فی صد کمی آئی ہے جبکہ باڑہ اور ہنگو میں آپریشن کے دوران کوئی بے گناہ شخص ہلاک نہیں ہوا۔ مشیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں جبکہ یہ اطلاعات غلط ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ صدر پرویز مشرف، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آصف زرداری کے درمیان مصالحت کروانے آئے


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے