ہنگو مذاکرات میں پیشرفت ، سیکورٹی فورسز اور مقامی طالبان فائر بندی پر رضا مند ہوگئے ، سمجھوتے پر عمل درآمد رات 9 بجے سے ہوگا۔باجوڑ ایجنسی میں افغان صوبے کنڑ سے داغے گئے3مارٹر گولے گرنے سے1شخص زخمی۔حکومت کیخلاف کارروائی کے اعلان پر قائم ہیں۔تحریک طالبان پاکستان۔اپ ڈیٹ:
ہنگو(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24جولائی۔2008ء)ضلع ہنگو میں امن مذاکرات میں پیش رفت کے بعد سیکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان فائر بندی پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پندرہ رکنی امن جرگے اور ریجنل کوآرڈی نیٹر آفیسر محمد عمر خان آفریدی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں فریقین نے فائر بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے ، سمجھوتے پر عمل درآمد آج رات نو بجے سے شروع کردیا جائے گا۔ مذاکرا ت میں ڈی سی او ہنگو اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔ سیکیورٹی فورسز کے 29 اہلکاروں اور 37 طالبان کی رہائی کے لئے مذاکرات کل صبح دوبارہ ہوں گے ۔ دوسری جانب ہنگو میں رات کاکرفیو برقرار ہے ۔ جبکہ دوآبہ میں بارہ دن سے نافذ کرفیو کے باعث کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ادھر باجوڑ ایجنسی میں افغانستان سے داغے گئے تین مارٹر گولے گرنے سے ایک شخص زخمی ہوگیا ۔ علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تحصیل چارمنگ کے علاقے ہاشم میں تین مارٹر گولے داغے گئے ہیں ۔ ایک مارٹر گولہ گھر پر گرا جس کے نتیجے میں اسلام گل نامی شخص شدید زخمی ہوگیا جسے علاج کے لئے ایجنسی ہیڈ کوارٹر اسپتال لایا گیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مارٹر گولے افغانستان کے مشرقی صوبے کنٹر سے داغے گئے تھے ۔ اس واقعے کے خلاف باجوڑ ایجنسی کے عوام نے شدید احتجاج کیا ہے ۔ادھرتحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو دی جانے والی ڈیڈ لائن گزشتہ روز ختم ہو چکی ہے ،جس کے بعد حکومت کے خلاف کارروائی کے اعلان پر قائم ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں مولوی عمر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے رابطہ کیا نہ ہی طالبان نے ڈیڈ لائن میں توسیع کی ہے ۔کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لئے طالبان کے اجلاس مختلف مقامات پر جاری ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ اگر حکومت مذاکرات کی میز پر واپس آتی ہے تو فیصلے میں تبدیلی ہوسکتی ہے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے