ہنگو میں جرگہ اراکین اور حکام کے درمیان مذاکرات بغیرکسی پیش رفت کے ختم ہوگئے ، فریقین کل دوبارہ بات چیت کریں گے ، آپریشن آخری مراحل میں داخل ہوگیا۔ ترجمان پاک فوج۔سوات ،نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خاتون سمیت 3افراد ہلاک ،6زخمی ، سیکورٹی فورسز نے کبل کے قریب ہزارہ کا محاصرہ کرلیا، علاقے میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ۔اپ ڈیٹ:
ہنگو(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23جولائی۔2008ء)ہنگو میں علمائے کرام، جرگہ اراکین اور حکام کے درمیان مذاکرات بغیرکسی پیش رفت کے ختم ہوگئے ہیں، فریقین اب کل صبح دوبارہ مذاکرات کریں گے ۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ ہنگو میں سیکیورٹی فورسز نے اپنے اہداف کو حاصل کرلیا ہے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ ہنگو میں آپریشن اپنے آخری مراحل میں ہے ۔ اس سے قبل توراورئی اوردیگرمضافاتی علاقوں میں سیکورٹی فورسزنے گن شپ ہیلی کاپٹروں سے جنگجووٴں کے مشتبہ ٹھکانوں پرشیلنگ کی ،جس کے نتیجے میں متعدد مکانات تباہ ہو گئے ۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں سیکورٹی سرچ آپریشن جاری ہے ، اس کارروائی میں تعاون کیلئے زرگری میں مقامی افراد نے 25 رکنی کمیٹی قائم کردی ہے ۔ ادھر سوات کے علاقے کبل کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے تحصیل کبل کے علاقے ہزارہ کا محاصرہ کرکے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق کبل کے قریب منجہ کے علاقے سے آنے والی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس تین افراد ہلاک اور چھہ زخمی ہوئے ، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ ادھر سیکیورٹی فورسز نے سوات کے علاقے ہزارہ میں کرفیو نافذ کردیا ہے ۔ جبکہ علاقے سے ملنے والے تین بموں کو بھی ناکارہ بنادیاگیا ہے ۔اس سے قبل تحریک طالبان کے ترجمان مسلم خان نے کہا تھاکہ سرحد حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد مقامی طالبان مختلف علاقوں میں مورچہ زن ہیں۔ مسلم خان کے مطابق ان مورچوں پر پچاس کمانڈرز تعینات کردئیے گئے ہیں۔ اور بیت اللہ محسود کا حکم ملنے پر کارروائیاں شروع کردی جائیں گی۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے