طالبان کے د و گروپوں میں تصادم بیت اللہ محسود نے مقامی طالبان کے امیر عمر خالد سے وضاحت طلب کر لی:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20جولائی۔2008ء)تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے مہمند ایجنسی میں طالبان کے دوگروپوں میں تصادم میں ایک گروہ کے چند افراد کی ہلاکت کے واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے مقامی طالبان کے امیر عمر خالد سے وضاحت طلب کی ہے۔تحریک کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ بیت اللہ محسود نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایک وفد بھیج دیا ہے جو مہمند ایجنسی میں ہفتہ کو ہونے والی ہلاکتوں کی تفتیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا عمر نے بھی اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ دونوں گروہوں کے مابین اختلافات ختم کرانے کیلئے افغان طالبان کا بھی ایک وفد کام کر رہا ہے جو مہمند ایجنسی میں پہلے سے ہی موجود تھا کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ ترجمان کے مطابق گزشتہ روز کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے شاہ خالد گروپ کے نائب امیر قاری عبید اللہ نے چند دن قبل بیت اللہ محسود سے ملاقات کی تھی اور ’جہاد‘ کے سلسلے میں تحریک طالبان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر پاکستان اور افغانستان کے تمام ’مجاہدین‘ تنظیمیں انتہائی افسردہ ہیں۔ گزشتہ روز مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے علاقائی امیر عمر خالد اور سلفی طالبان کے نام سے مشہور شاہ خالد گروپ کے حامیوں کے مابین جھڑپ میں سولہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ملی تھیں۔ عمر خالد کے ترجمان ڈاکٹر اسد نے دعویٰ کیا تھا کہ اس لڑائی میں شاہ خالد گروپ کے امیر اور نائب امیر سمیت پندرہ حامیوں کو قتل کیا گیا ہے جبکہ تحریک طالبان کا ایک کمانڈر نثار بھی مارا گیا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ شاہ خالد گروپ کے دو مراکز اور ایک سو بیس ساتھیوں کو بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔ ادھر خود کو شاہ صاحب گروپ کا ترجمان ظاہر کرنے والے خطاب نامی ایک شخص نے گزشتہ روز پشاور میں صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا عمر ان کے امیر المومنین ہیں اور ان کا گروپ ملا عمر ہی کے کہنے پر افغانستان میں کفر کے خلاف جہاد کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گروپ نے پاکستان میں کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ترجمان نے ملاعمر اور دیگر جہادی تنظیموں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کمانڈر شاہ خالد اور دیگر ساتھیوں کی ہلاکت کا نوٹس لیں اور اس واقعہ کی تحقیقات کی جائے۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے