ضلع ہنگو میں مغوی سرکاری اہلکاروں کی رہائی کے لئے سو رکنی جرگہ تشکیل دے دیا گیا ۔جرگے نے دو آبہ سے کرفیو کے خاتمے ، فوج کی واپسی، اور زرگڑی پر گولہ باری بند کرنے کا مطالبہ کردیا:
ہنگو(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14جولائی۔2008ء)ضلع ہنگو میں عمائدین نے طالبان کی قید میں موجود مغوی سرکاری اہلکاروں کی رہائی کے لئے سو رکنی جرگہ تشکیل دے دیا ہے ۔ ایم پی اے مفتی سید جانان کی سربراہی میں تشکیل پانے والے جرگے نے دو آبہ سے کرفیو کے خاتمے ، فوج کی واپسی، اور زرگڑی پر گولہ باری بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ہنگو سے ون و رلڈ کے نمائندے کے مطابق طالبان نے چالیس سرکاری اہلکاروں کی رہائی اپنے چھ ساتھیوں کی رہائی سے مشروط کردی ہے ۔ جرگہ میں شامل ایک رکن نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ طالبان نے ان سے رابطہ کیا ہے اور فریقین پر واضح کردیا گیا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کیونکہ یہی بہترین حل ہے ۔ دوسری جانب اورکزئی ایجنسی میں بھی ستر رکنی جرگہ پولیٹیکل ایجنٹ اورکزئی سے بات چیت کررہا ہے ۔ دوسری جانب ضلع ہنگو کے علاقوں دوآبہ اور زرگڑی میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جہاں فورسز کا گشت جاری ہے ۔ ادھر دوآبہ میں آج چھٹے روز بھی کرفیو برقرار ہے ۔کشیدہ صورتحال کے باعث علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے ، علاقے میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے ۔جس کے باعث عوام کی بڑی تعداد نقل مکانی کررہی ہے ۔ زرگڑی میں فورسز کی جنگجووں کے ٹھکانوں پر گولہ باری جا ری ہے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے