انگور اڈہ پر امریکی اور اتحادی طیاروں کی بمباری ،6فوجیوں سمیت11افراد زخمی۔پاکستان کا اتحادی فوج سے شدید احتجاج۔ہنگو میں جرگے نے سرکاری اہلکاروں کی رہائی کیلئے مذاکرات کیلئے فوج کے انخلاء کی شرط عائد کردی، کل دو بجے تک ساتھی رہا نہ ہوئے تو مغویوں کو ہلاک کرنا شروع کردیں گے ۔طالبان کی دھمکی۔اپ ڈیٹ:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11جولائی۔2008ء)پاکستان نے انگور اڈہ پر امریکی اور اتحادی طیاروں کی بمباری پر اتحادی فوج سے شدید احتجاج کیا ہے ۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل اطہر عباس نے نجی ٹی وی کوبتایا کہ پاکستان نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور جغرافیائی سرحدوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہں کیا جاسکتا اور اور اتحادی افواج اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں۔ گذشتہ رات اتحادی طیاروں کی بمباری سے گیارہ افراد زخمی ہوئے تھے جن میں چھ سیکورٹی اہلکار بھی شامل تھے ۔جبکہ افغان حدود سے فائر کئے گئے چھ گولے بھی پاکستانی علاقے میں گرے تھے ۔ادھرہنگو میں قبائلی جرگے نے علاقے سے فوج کے انخلاء تک اہلکاروں کی رہائی کیلئے مقامی طالبان کیساتھ مذاکرات سے انکار کردیا ہے جبکہ طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر کل دو بجے تک ان کے گرفتار ساتھی رہا نہ کئے گئے تو مغوی افرادکو ایک ایک کرکے ہلاک کرنا شروع کردیا جائے گا۔ ہنگو میں سولہ سرکاری اہلکاروں کی رہائی کے لئے مذاکرات چھ رکنی جرگے اور مقامی طالبان کے درمیان ہونا تھے تاہم جرگے کے ارکان نے کہاہے کہ جب تک علاقے سے فوج واپس نہیں ہوتی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔ ادھر ہنگو کے علاقے دوآبہ میں کرفیو بدستور برقرار ہے ۔ مقامی آبادی گھروں میں محصور ہے ۔ علاقے میں مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔ ادھر طالبان نے قبائلی عمائدین سے مذاکرات کے بعد نریاب ڈیم کا قبضہ اور اس کے اردگرد مورچے خالی کردیئے ۔ دوسری جانب تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے دھمکی دی ہے کہ اگر کل دو بجے تک ان کے گرفتار ساتھی رہا نہ کیئے گئے تو مغوی افرادکو ایک ایک کرکے ہلاک کرنا شروع کردیا جائے گا۔ نامعلوم مقام سے فون پر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرفتار طالبان پر تشدد بند نہ کیا گیا تو مغوی افراد پر بھی تشدد کیا جائے گا۔ مولوی عمر نے مزید کہا کہ انکا مواصلاتی رابطہ بحال کیا جائے ورنہ ٹاورز کو دھماکوں سے تباہ کردیا جائے گا۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے