جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں اتحادی فوج کی جانب سے فائر کئے گئے مارٹر گولے گرنے سے 4سیکورٹی اہلکار اور 2شہری زخمی ۔ضلع ہنگو میں سولہ سرکاری اہلکاروں کی رہائی کے لئے چھ رکنی جرگہ اور مقامی طالبان کے درمیان آج دوبارہ مذاکرات ہو رہے ہیں، دوآبہ میں سرچ آپریشن روک دیا گیا،کرفیو برقرار۔اپ ڈیٹ:
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11جولائی۔2008ء)جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغانستان میں موجود اتحادی فوج کی جانب سے فائر کئے گئے مارٹر گولے گرے ہیں جس سے چار سیکورٹی اہلکار اور دو شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے اتحادی طیاروں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی بھی کی۔ جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ افغانستان میں اتحادی فوج کی جانب سے فائر کئے گئے چھ گولے زیبہ چیک پوسٹ پر پاکستانی علاقے میں گرے ۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق مارٹر حملوں میں چار سیکورٹی اہلکار اور دو شہری زخمی ہوئے ہیں۔ادھرضلع ہنگو میں سولہ سرکاری اہلکاروں کی رہائی کے لئے چھ رکنی جرگہ اور مقامی طالبان کے درمیان آج دوبارہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنگو کے علاقے دوآبہ میں گزشتہ روز نافذکیا جانے والاکرفیو بدستور برقرار ہے ۔ زرائع کے مطابق فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن روک دیا ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق ضلع ناظم حاجی خان افضل کی سربراہی میں جرگہ ڈی سی او ہنگو کے دفتر میں مقامی طالبان سے اہلکاروں کی رہائی کے لئے مزید بات چیت کرے گا۔ مذاکرات کے دوران طالبان اپنے مطالبات پیش کریں گے جن سے صوبائی حکومت کو آگاہ کیا جائے گا۔ طالبان کے ساتھ گذشتہ روز ہونے والا جرگہ ناکام ہوگیا تھا اور طالبان نے مغویوں کی رہائی اپنے سات ساتھیوں کی رہائی سے مشروط کردی تھی۔ جس کے بعد گرفتار افرادکی رہائی کے لیے مفتی دین محمد اظہر کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔ ادھر دوآبہ میں گزشتہ روز سے نافذ کرفیو بدستور برقرار ہے ۔ جس کے باعث مقامی آبادی گھروں میں محصور ہے ۔ علاقے میں مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے