باجوڑ ایجنسی میں مسلح طالبان نے لڑکیوں کے سکول اور ایک ڈسپنسری پر مبینہ طور پر قبضہ کر لیا:
باجوڑ(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین08جولائی2008 ) قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مسلح طالبان نے لڑکیوں کے سکول اور ایک ڈسپنسری پر مبینہ طور پر قبضہ کر لیا ۔ باجوڑ کے ایک پولیٹیکل اہلکار نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ پیر اور منگل کی شب کو مسلح طالبان نے صدر مقام خار سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور تحصیل ناوگئی کے علاقے چار منگ میں واقع گرلز پرائمری سکول ملنگی اور ایک ڈسپنسری پر قبضہ کر لیا ۔ انہوں نے بتایاکہ قبضہ چھڑوانے کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک قبائلی جرگہ بھیجا گیا ہے۔ واضح رہے کہ طالبان نے چند دن قبل لڑکیوں کے سکولوں کو دینی مدارس میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قبائلی علاقوں بالخصوص صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنانے کے درجنوں واقعات پیش آئے ہیں تاہم قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں طالبان کی جانب سے سکولوں پر قبضہ کے بعد باجوڑ میں بھی اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہوا ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے