درہ آدم خیل میں سیکیورٹی فورسز نے بابو زئی کلے کا محاصرہ کرلیا ،سرچ آپریشن جاری۔شمالی وزیرستان ایجنسی میں بم دھماکہ تین افراد شدید زخمی۔جنوبی وزیرستان کے آپریشنل ایریاز سے سیکیورٹی فورسز کی تین سو چوبیس بریگیڈ آج ٹانک منتقل ہو رہی ہے:
درہ آدم خیل(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔16مئی۔2008ء)درہ آدم خیل میں سیکیورٹی فورسز نے بابو زئی کلے کا محاصرہ کرلیا ہے اور وہاں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے ۔ تازہ آپریشن میں فورسز کو ٹینکوں کی مدد حاصل ہے ۔ جبکہ کوہاٹ پشاور شاہراہ کو ایک بار پھر آمدورفت کے لئے مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے ۔ درہ آدم خیل میں سیکیورٹی فورسز کی شر پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ روز بھی اکر وال کے علاقے میں آپریشن کے دوران تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیاتھا۔ دوسری جانب شمالی وزیرستان ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میران شاہ میں مسافر بس کے اڈے میں بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ نمائندے کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میران شاہ منتقل کردیا گیا ہے ۔ ادھر باجوڑ ایجنسی کی تحصیل سالار زو میں ایک مغوی اہلکار کی لاش ملی ہے ۔ جس کے پاس سے ایک خط برآمد ہوا ہے جس کے مطابق سیکیورٹی اہلکار کو امریکی جاسوسی کے الزام میں قتل کیا گیا تھا۔ادھر جنوبی وزیرستان کے آپریشنل ایریاز سے سیکیورٹی فورسز کی تین سو چوبیس بریگیڈ آج ٹانک منتقل ہو رہی ہے ۔ وانا بازار میں رات گئے زور دار دھماکہ ہوا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی واپسی مقامی طالبان اور فورسز کے درمیان ہونے والے کامیاب امن مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے جس کے نتیجے میں بارہ سیکیورٹی اہلکار اور سینتس طالبان کو رہا کیا گیا تھا اور جنوبی وزیرستان کے رہائشی علاقوں سے سیکیورٹی فورسز کی واپسی پر اتفاق ہو گیا تھا۔ طالبان کی جانب سے رہا کئے جانے والے افراد میں پاکستان کے لاپتہ سفیر طارق عزیز الدین شامل نہیں تھے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے