شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان اور سول انتظامیہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد12سیکورٹی اہلکار اور 37طالبان کو رہاکردیاگیا۔جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کی پوزیشنیں تبدیل کی گئی ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس۔اپ ڈیٹ:
رزمک(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14مئی۔2008ء)شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسی کے سرحدی علاقے میں مقامی طالبان، قبائلی عمائدین اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ جس کے بعد بارہ سیکورٹی اہلکاروں اور سینتیس طالبان کو رہا کردیاگیا ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاک فوج کے دو افسران سمیت سات سیکورٹی اہلکاروں کی رہائی عمل میں آئی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسزکی پوزیشن بھی تبدیل کی گئی ہے ، اور مرکزی شاہراہ کو کھول دیاگیا ہے ۔اس سے پہلے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جنوبی وزیرستان سے فوج کے انخلاء کافیصلہ حکومت اور قبائل کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں حکومت کرے گی۔شمالی وزیرستان سے نمائندہ کے مطابق سیکورٹی اہلکاروں کی رہائی سینتیس طالبان کی رہائی کے بدلے میں عمل میں آئی ہے ۔ذرائع کے مطابق رزمک اور مکین کے درمیان خفیہ مقام پر ہونے والے ان مذاکرات میں طالبان رہنما بیت اللہ محسود کی نمائندگی اکرام الدین اور امیر محمد نے کی۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے