جنوبی وزیرستان، بیت اللہ گروپ کے30 کے قریب جنگجووٴں کی رہائی چوبیس گھنٹوں تک متوقع:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13مئی۔2008ء)جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان جاری حفیہ مذاکرات کے نتیجے میں بیت اللہ گروپ کے30 کے قریب جنگجووٴں کی رہائی اگلے چوبیس گھنٹوں تک متوقع ہے۔ جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ منگل کو بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے تیس جنگجووٴں کو ڈیرہ اسماعیل خان سنٹرل جیل سے ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے وانا زیڑی نور فوجی کالونی منتقل کردیاگیا۔ ذرائع کے مطابق اس کے بعد ان کو دوبارہ وانا سے شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک لے جائے گیا۔ جہاں محسود قبائل کا جرگہ آسانی کے ساتھ پہنچ سکتا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ رہا کیے جانے والوں میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں اور تمام کے تمام پاکستانی ہیں۔ سرکاری اہلکار نے مزید بتایا کہ بیت اللہ گروپ کی طرف سے کچھ سرکاری اہلکاروں کی رہائی متوقع ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس میں پاکستانی سفیر عزیزالدین شامل ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات میں دو قبائلی سردار اکرام الدین اور امیر محمد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب مذاکرات کے بعد محسود کے علاقے میں تمام سڑکیں کھول دی جائیں گی۔ یادرہے کہ موجودہ حکومت کیساتھ بیت اللہ محسودکے ترجمان مولوی عمرنے مذاکرات ختم کرنے کااعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک جنوبی وزیرستان سوات اور درہ ادم خیل سے فوج کو نکالا جائے تب تک ان کے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔اس کے بعد حکومت نے حفیہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے