سوات اور قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان کی جانب سے گرلز اسکولوں اور کالجوں پر حملوں کا سلسلہ جا ری ،اورکزئی ایجنسی میں مغوی خاتون ٹیچر کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جا سکا:
سوات(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10مئی۔2008ء)سوات اور دیگر قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان تنظیموں کی جانب سے اسکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم خواتین کو ہراساں کرنے کا عمل جا ری ہے جبکہ اورکزئی ایجنسی میں مغوی خاتون ٹیچر کو ایک ہفتہ گزرنے کے با وجود بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے ۔ نمائندے کے مطابق شر پسندوں نے گرلز اسکولوں، ویڈیو سینٹرز اور حجام کی دکانوں کو بند کر نے کے لئے پندرہ روز کی مہلت دی تھی جو ایک ہفتے پہلے ختم ہو چکی ہے ۔جس کے بعد سے اب تک چار باغ میں ایک، اور مٹہ میں دو گرلز ہائی اسکول تباہ کئے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب درہ آدم خیل میں سیکورٹی فورسز کے زیر استعمال ڈگری کالج میں پانچ دھماکے ہوئے ہیں۔ جس کے باعث کالج کی عمارت تباہ ہو گئی ۔ اورکزئی ایجنسی میں مقامی مغوی خاتون ٹیچر کے معاملے پر اساتذہ تنظیموں نے غیر معینہ مدت کے لئے اسکول بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے ۔ اورکزئی ایجنسی کی اساتذہ تنظیموں کے نمائندوں نے پولیٹیکل حکام سے ملاقات کرکے ٹیچر کی بازیابی کے لئے دودن کی مہلت دی ہے


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے