![]() |
حکومتی اہلکار نے بتایاکہ مقامی طالبان کے سربراہ ملا نذیر کے شدید زخمی ہونے والے دو بھائیوں عبدالعزیز اور حضرت عمر کو بالترتیب ڈھائی اور دو لاکھ پچانوے ہزار جبکہ دیگر اہم کمانڈروں میں میٹھا خان نے اپنی بہن ، کمانڈر نورالسلام نے اپنے بیٹے غازی مرجان اور کمانڈر مولوی عباس نے اپنی بیوی کی ہلاکت کے نام پر پانچ پانچ لاکھ روپے کے معاوضہ کی رقم وصول کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے طالبان کے پہلے کمانڈر نیک محمد وزیر کی ہلاکت پر بھی معاوضہ کی رقم کی ادائیگی کی منظوری دے دی گئی ہے تاہم ان کے خاندان والوں نے یہ کہہ کر رقم لینے سے انکار کر دیا ہے کہ ’وہ بڑے کمانڈر تھے لہذٰا انہیں زیادہ رقم ادا کی جائے۔ اہلکار کے مطابق منان نامی ایک طالبان جنگجو کے لواحقین کو بھی پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کیا گیا ہے جسے2004ء میں سکیورٹی فورسز نے اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ سڑک کے کنارے بم نصب کرنے کی مبینہ کوشش کر رہا تھا جبکہ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ دو طرفہ فائرنگ میں ہلاک ہونے والے عثمان نامی طالب جنگجو کے اہل خانہ کو بھی معاوضہ کی رقم دے دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر غیر مستحق افراد کو معاوضہ کی رقم ادا کی گئی ہے اور ادائیگی سے قبل کسی قسم کی کوئی چھان بین نہیں کی گئی ہے کہ آیا درخواست دینے والے حقیقتاً آپریشن کے دوران متاثر ہوئے بھی ہیں یا نہیں۔ اس سے قبل نو فروری2005میں صوبہ سرحد کے اس وقت کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین شاہ نے کہا تھا کہ حکومت نے القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب طالب کمانڈروں حاجی شریف اور مولوی عباس کو ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ اور حاجی جاوید اور حاجی عمر کو دس دس لاکھ روپے کی رقم اس لیے ادا کر دی تھی تاکہ وہ القاعدہ کی جانب سے ان کو دی گئی قرض سے جان چھڑا سکے۔ کور کمانڈر کے اس انکشاف کے بعد حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ اس نے قبائلی جنگجووٴں کو خطیر رقم ادا کر کے بلاواسطہ القاعدہ کی مالی معاونت کی ہے۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے
