جنوبی وزیرستان میں تین سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں بر آمد:
جنوبی وزیرستان(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین12اپریل 2008 ) پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے تین اہلکاروں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ سرکاری اہلکار تین لاشیں تابوتوں میں رکھ کر شمالی وزیرستان کے علاقہ رزمک لائے تھے جس کے بعد لاشوں کو ان کے آبائی گاوٴں روانہ کردیا ہے۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو جنوبی وزیرستان کے سب ڈویڑن لدھا میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تین مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے یہ اہلکار تین مہینے پہلے لدھا کے مقام پر مقامی طالبان کے ساتھ ایک لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے جن کو لدھا میں ہی مقامی طالبان نے دفنا دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس وقت پورے علاقے میں شدید لڑائی چھڑگئی تھی اور لاشوں کو سنبھالنا ایک مشکل کام تھا۔ سکیورٹی فورسز کی جنگی مصروفیات کی وجہ سے کچھ لاشیں وہاں پر رہ گئی تھیں۔ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنوری2008 کو مکین اور لدھا کے مقام پرایک فوجی آپریشن میں سکیورٹی فورسز کے کچھ زخمی مقامی طالبان کے ہاتھوں لگ گئے تھے، جو وقت پر علاج نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان، سوات اور باجوڑ کے علاقے سے لاپتہ ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ اہلکار کہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو ملنے والی لاشوں میں دو باجوڑ سکاوٴٹس فورس اور ایک فوجی اہلکار شامل ہے۔ یادرہے کہ2007کے اواخر اور2008 کے اوئل میں فوج نے جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود میں تین مقامات مکین، تیارزہ اور چگملائی پر ایک آپریشن شروع کیا تھا۔جس میں دونوں جانب سے کافی جانی نقصان ہوا تھا۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے