کرم ایجنسی ‘ دو قبائل کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 8افراد جاں بحق‘ 35زخمی‘گولہ باری سے کئی گھر تباہ:
کرم ایجنسی (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین09اپریل 2008 )کرم ایجنسی میں دو قبائل کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 8افراد جاں بحق اور 35زخمی ہوگئے ۔اطلاعات کے مطابق کرم ایجنسی کے علاقے سدہ میں خوار کلے اورسنگیلہ کے مقامات پر شدیدجھڑپوں کے دور ان 8افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوگئے ۔ جس میں قبائل ایک دوسرے کے خلاف مارٹرتوپوں راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں ۔گولہ باری سے کئی گھر بھی تباہ ہوگئے جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ۔جرگے کے عمائدین کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی میں کشیدہ صورتحال کو ایک سال کا عرصہ گزر گیا ہے سکیورٹی فورسز اور انتظامیہ امن وامان کے حوالے سے ناکام نظر آرہی ہیں انہوں نے کہاکہ ہم اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کر ے تاکہ صورتحال پر قاپو پایا جاسکے ۔نجی ٹی وی کے مطابق جب پولیٹیکل ایجنٹ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ میں ابھی جرگے میں مصروف ہوں اورمذاکرات جاری ہیں تاہم ابھی تک اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکا ۔16نومبر 2007ء کے بعد صورتحال کشیدہ ہونے کے باعث کرم ایجنسی کے جانب جانے والے داخلی و خارجہ راستے بند ہیں بجلی بند اور ٹیلی فونک رابطہ منقطع ہے غذائی اجناس کی انتہائی شدید قلت ہے ۔پانچ آبادی والے علاقے کے لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔واضح رہے پاکستانی سفیر عزیز الدین کوپشاور سے کابل جاتے ہوئے خیبر ایجنسی سے اغواء کیا گیا دوماہ گزرنے کے بعد ابھی ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا اور کسی قبائل نے عزیز الدین کی گرتاری کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم سکیورٹی فورسز اور انتظامیہ کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ ایک ہفتہ قبل ایک کانوائے پر حملہ کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے