اورکزئی ایجنسی اور باجوڑ میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی ،گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری سے 12خود کش حملہ آوروں سمیت 47شدت پسند ہلاک ، سوات میں سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں اورسرچ آپریشن کا سلسلہ جاری:
اورکزئی/باجوڑ/ سوات(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12اکتوبر۔2008ء)اورکزئی ایجنسی اور باجوڑ میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری سے بارہ خود کش حملہ آوروں سمیت 47شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سوات میں سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں اورسرچ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔ مکان پر گولہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق دو خواتین سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل اطہر عباس نے بتایا کہ اورکزئی ایجنسی میں پاک فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں ستائیس شدت پسند ہلاک ہو گئے جن میں بارہ خود کش حملہ آور تھے ۔ ترجمان کے مطابق باجوڑ میں چارمنگ کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں دس شدت پسند مارے گئے ہیں ۔ باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ محمد جمیل کے مطابق چارمنگ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی جس سے ان کے دو اہم مراکز تباہ ہو گئے۔اسسٹنٹ ایجنٹ کے مطابق اتوار کو بھی چارمنگ میں طالبان اور قبائلی لشکر کی جھڑپیں جاری رہیں جس میں دوقبائلی اور چار شدت پسند مارے گئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق باجوڑ میں قومی لشکر اور سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں بیس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شدت پسندوں نے لشکر کے تین ارکان کے علاوہ دو مغویوں کو ہلاک کر دیا ہے جن کی لاشیں چارمنگ سے ملی ہیں۔چارمنگ میں شدت پسندوں کے سات گھروں کو بھی نذر آتش کر دیاگیا جبکہ شدت پسندوں نے قبائلی عمائدین کے تین گھروں کو آگ لگا دی ۔ سوات میں بھی سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپوں اور فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے۔ تحصیل خوازہ خیلہ میں کرفیو نافذ کردیاگیا ہے۔جھڑپوں میں سیکورٹی فورسز کے کیپٹن علی چیمہ کے زخمی جبکہ کئی شدت پسندوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خواذہ خیلہ کے کرم ڈھیری کے علاقے میں ایک گولہ مکان پر گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور دو خواتین سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے