کوہاٹ میں میشتی قوم کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات میں ہلاک ہونے والے 58افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی:
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔30مارچ۔2008ء) صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں کچئی اور اورکزئی ایجنسی کی میشتی قوم کے درمیان چھ روزہ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعدسکیورٹی فورسز نے اب تک ان فسادات میں ہلاک ہونے والے 58افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں جن میں7 خواتین اور6 بچے بھی شامل ہیں۔میشتی قوم سے تعلق رکھنے والے ضلع ہنگو کے ناظم خان افضل نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو دن قبل جنگ بندی کے بعد فریقین نے سکیورٹی فورسز کے ہمراہ جنگ زدہ علاقوں اور مورچوں میں ہلاک ہونیوالوں کی لاشوں کی تلاش شروع کی تھی جس کے دوران صرف میشتی قوم نے اپنے قبیلے کے 28افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں۔ ناظم کا کہنا ہے کہ ان 28 افراد میں میشتی قوم کے وہ15 افراد بھی شامل ہیں جنہیں پہلے ہی روز ایک جرگے کے دوران فائرنگ کے نتیجہ میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ہنگو کے ناظم کے بقول زیادہ تر افراد کو سپرد خاک کیا گیا ہے جبکہ میشتی قوم نے کچئی قوم کے اہم مورچہ لوٹنگ کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔اس مورچہ میں کچئی قبیلے کے 17افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری طرف استرزئی یونین کونسل کے ناظم سید مہتاب خان نے کہا ہے کہ دو دن کی کوشش کے بعد مورچوں اور متاثرہ گھروں سے کچئی قوم کے تیس افراد کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ فریقین نے اپنے اپنے مورچے سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیے ہیں اور اس وقت علاقہ میں مکمل خاموشی ہے۔ واضح رہے کہ کوہاٹ میں کچئی اور اورکزئی ایجنسی کی میشتی قوم کے درمیان اس وقت شدید لڑائی شروع ہوئی تھی جب ایک جرگہ کے دوران فریقین کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی تھی جس میں17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس جھڑپ میں حکومت کو کئی مقدمات میں مطلوب اشتہاری مجرم صورت علی عرف صوراتی بھی مارا گیا تھا۔ مقامی انتظامیہ کی کوششوں سے فریقین پر مشتمل ایک جرگہ دو دن قبل جنگ بندی پر رضا مند ہوگیا تھا۔ یاد رہے کہ کچئی کوہاٹ شہر کا ایک پہاڑی گاوٴں ہے جو اورکزئی ایجنسی کے سنگم پر واقع ہے۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے