طالبان کمانڈر ملا منصور داد اللہ کی رہائی کے بدلے طارق عزیز الدین کو چھوڑ دیا جائے گا، مقامی طالبان نے پاکستانی سفیر کے اغواء کی ذمے داری قبول کرلی۔اپ ڈیٹ:
جمرود(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12فروری۔2008ء)مقامی طالبان نے افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین کے اغواء کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کمانڈر ملا منصور داد اللہ کی رہائی کے بدلے طارق عزیز الدین کو چھوڑ دیا جائے ۔ دوسری جانب خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ سید امیرالدین شاہ کی سربراہی میں تین تحصیلوں کے عہدے داروں پر مشتمل وفد تیرہ ذخہ خیل روانہ ہوگیا ہے جہاں وہ پاکستانی سفیر کی بازیابی کے حوالے سے علاقے کے عمائدین سے ملاقاتیں کریں گے ۔ طارق عزیز الدین کی بازیابی کیلئے خیبر ایجنسی میں سیکورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے ۔ طارق عزیزالدین گذشتہ روز اپنے محافظ اور ڈرائیورسمیت کابل جاتے ہوئے جمرود کے مقام پر لاپتہ ہوگئے تھے ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقامی طالبان کے ترجمان نے عرب ٹی وی چینل سے گفتگو میں پاکستانی سفیرکو اغواء کرنے کا دعوٰی کیا ہے ۔ عربی ٹی وی چینل کے مطابق طالبان نے طارق عزیز الدین کے بدلے اپنے کمانڈر منصور داداللہ کی رہائی کا مطالبہ کیاہے ۔ جنہیں گذشتہ روز بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے گرفتار کیا گیاتھا۔ اس سے پہلے دفترخارجہ کے ترجمان محمد صادق نے افغانستان میں پاکستانی سفیر کے اغواء کی خبر پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہاتھا کہ ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے ۔ پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طارق عزیز الدین پیر کی صبح گیارہ بجے خیبر ایجنسی پہنچے تھے جہاں انہیں دو محافظ فراہم کئے گئے تھے لیکن جمرود میں واقع علی مسجد کا علاقہ عبو ر کرنے کے بعد ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ دوسری جانب جمرود کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کا کہنا ہے کہ چیک پوسٹ پر سیکیورٹی اہلکار وں نے پاکستانی سفیر کی گاڑی میں مقامی افراد کو دیکھ کر رکنے کا اشارہ کیا تھا لیکن وہ نہیں رکی ۔ افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے ون ورلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر پاکستانی سفیر کو اغواء کیا گیا ہے تو مقامی انتظامیہ کو اس واقعے میں ملوث عناصر کے بارے میں جلد علم ہوجائے گا۔ جس کے بعد پولیٹیکل ایجنٹ اور قبائلی عمائدین کے ذریعے ان سے رابطہ کیا جائے گا۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے