جنوبی وزیرستان کے علاقے تیار زہ سے سیکورٹی فورسز نے پندرہ مشتبہ افراد گرفتار کرلئے ،لدھا قلعے میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،درہ آدم خیل میں کوہاٹ ٹنل آمدورفت کے لئے آج شام تک کھولے جانے کا امکان ہے ،سات روز سے بجلی کی بندش کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا:
میرانشاہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔31جنوری۔2008ء)جنوبی وزیرستان ایجنسی کے علاقے تیار زہ سے سیکیورٹی فورسز نے پندرہ مشتبہ افرادکو گرفتار کرلیا ہے ۔ جبکہ لدھا قلعے میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے ۔ نمائندہ کے مطابق جنوبی وزیرستان ایجنسی میں محسود قبائل کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی پیشقدمی بدستور جاری ہے ۔ جبکہ جنوبی وزیرستان سے مقامی افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔ جو رزمک سے ہوتے ہوئے شمالی وزیرستان ایجنسی کے علاقوں میران شاہ، عیسی چیک پوسٹ، میر علی، دتہ خیل ،کری وام،وانا اور بنوں پہنچ رہے ہیں جہاں ان کے لئے انتظامیہ، فلاحی اداروں اور مقامی افراد کی جانب سے ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ رات شر پسندوں نے شیشام وان میں فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کردی جس کے جواب میں فورسز نے کارروائی کی۔ اس د وران دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہین ہوا۔ جبکہ نوشہرہ میں اکوڑہ خٹک روڈ پر فوجی قافلے کے نزدیک بم دھماکہ ہوا۔ تاہم فورسز کاقافلہ بالکل محفوظ رہا ۔ادھر مہمند ایجنسی میں شر پسندوں کی کارروائی سے نمٹنے کے لئے تین سو افراد پر مشتمل قبائلی لشکر تشکیل دے دیا گیا ہے ۔ لشکر نے کارروائی کے دوران شر پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو آگ لگادی ہے ۔ادھردرہ آدم خیل میں کوہاٹ ٹنل آمدورفت کے لئے آج شام تک کھولے جانے کا امکان ہے ۔ جبکہ د رہ میں آج شام چھ سے صبح چھ بجے تک کرفیو میں نرمی ہے ۔ نمائندہ کے مطابق کوہاٹ ٹنل کی مرمت کا کام آخری مراحل میں ہے جس کے بعد اسے آج شام تک کھولے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے ۔ ادھر علاقے میں گزشتہ سات روز سے بجلی کی بندش کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ جبکہ قبائلی علاقے کا واحد زرغون سول اسپتال بند ہونے سے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ درہ آدم خیل میں فرنٹئر کور نے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ اور علاقے سے نقل مکانی کرنے والے خاندان فرنٹئیر کور کی نگرانی میں قافلوں کی شکل میں واپس لوٹ رہے ہیں۔ اب تک ڈیڑھ سو گاڑیوں پر مشتمل شہریوں کے قافلے درہ واپس پہنچ چکے ہیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے