شمالی وزیرستان سرکاری املاک کو نقصان اورسکیورٹی فورسزپرحملوں کی ذمہ داری مقامی قبائل پرعائد کردی گئی۔ ہزاروں کلاس فور ملازمین کی تنخواہیں چارماہ سے بند:
میرانشاہ (اردوپوا ئنٹ اخبار تازہ ترین03انومبر2007) شمالی وزیرستان میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری ایف سی آر قانون کے تحت مقامی قبائل پر عائد کرتے ہوئے ہزاروں کلاس فور ملازمین کی تنخواہیں چار ماہ سے بند کر دی گئی ہیں جبکہ مخدوش حالات کے باعث تمام تعلیمی ادارے چھ ماہ سے بند ہیں ۔ جس سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے ۔ شمالی وزیرستان کے عمائدین اور طلباء و طالبات کے والدین نے گور نر سرحد علی محمد جان اورکزئی سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے اصل ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا جاتا اور ایف سی آر کے تحت کلاس فور ملازمین کی تنخواہیں بند کر دی جاتی ہیں تنخواہیں بند ہو نے کے باعث محکمہ تعلیم پبلک ہیلتھ محکمہ صحت زراعت لیویز اور دیگر محکموں میں کام ٹھپ ہو چکا ہے ۔ تمام تعلیمی ادارے چھ ماہ سے بند ہیں اور مخدوش حالات کے باعث امتحانی مراکز وزیرستان سے بنوں منتقل کر دیئے گئے ہیں جس سے لوگوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔مقامی عمائدین نے گور نر سرحد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیں تاکہ نوجوان نسل کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو ۔ کلاس فورس ملازمین کی تنخواہیں بند ہو نے کے باعث سرکاری مشینری مفلوج ہو چکی ہے اور لوگوں کو تمام محکموں کی طرف سے مشکلات کا سامنا ہے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے