پشاور، وزیرستان آپریشن کیخلاف اے این پی کا احتجاجی کیمپ:
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11اکتوبر۔2007ء )عوامی نیشنل پارٹی نے وزیرستان میں فوجی آپریشن کیخلاف پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا۔کیمپ کی قیادت پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور،حاجی عدیل،صوبائی صدر افراسیاب خٹک ،سابق صوبائی صدر بشیر بلور،صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور سید عاقل شاہ کر رہے تھے۔کیمپ میں احتجاجی پلے کارڈز اوربینرز آویزاں کئے گئے تھے جن پر وزیرستان میں فوجی آپریشن بند کرو،فوج کو فوری طور پر واپس بلاؤ اور ان جیسے دیگر نعرے درج تھے۔اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اے این پی رہنماؤں نے کہا کہ وزیرستان آپریشن میں بیگناہ قبائلی افراد،خواتین اور معصوم بچے مارے جا رہے ہیں جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ آپریشن فوری طور پر ختم کیا جائے اور فوج کو واپس بلایا جائے۔حکومت ایک طرف قبائلیوں سے مذاکرات کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف ان بیچاروں پر بمباری شروع کر دیتی ہے جس کے باعث سکول ،مساجد اور لوگوں کے گھر تباہ ہو گئے ہیں،رستے بند ہیں اور عوام شدید ترین مسائل کا شکارہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت کہتی رہی کہ وزیرستان میں 700طالبان ہیں تاہم اب یہ بات پوچھنے کی ہے کہ یہ ہزاروں مقامی طالبان اور خود کش بمبار کہاں سے آ گئے ۔انھوں نے کہا کہ وزیرستان میں 80ہزار فوج تعینات کی گئی ہے تو وہ کیوں ان700طالبان کو ختم نہیں کر سکتی یا تو حکومت اور فوج کمزور ہے اور یا پھر بین الاقوامی مفادات کی خاطر اپنی قوم کو بیچ ڈالا گیا ہے اور اس پر بم برسائے جا رہے ہیں یا پھر فوج ان لوگوں کیساتھ ملی ہوئی ہے اور اپنے ہی بچوں کو مار رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ سارا کھیل جنرل مشرف اور حکومتی ایجنسیاں بین الاقوامی مفادات کی خاطر کھیل رہی ہیں ،پہلے یہی کھیل افغانستا ن میں کھیلا جاتا رہا اور اب یہ پاکستان کے قبائلی اور سرحد کے بندوبستی علاقوں میں کھیلا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ جنرل مشرف اور ان کی ایجنسیاں و حکومت بین الاقوامی مفادات ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں لیکن انھیں تب احساس ہو گا جب حالات کنٹرول سے باہر ہو جائینگے۔انھوں نے کہا کہ پختون قوم اب بیدار ہو چکی ہے اور اپنے دشمن کو پہچان رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ پختون قوم سے تعلق رکھنے والے تمام مکاتب فکر کے افرادمتحد ہو کر آنیوالے اس طوفا ن کا مقابلہ کریں۔انھوں نے کہا کہ قوم میں اب برداشت کا مادہ ختم ہو گیا ہے اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور وہ دن دور نہیں جب حکمرانوں کو اس بات کا احساس ہو جائیگا تاہم پھر حالات انکے قابو میں نہیں رہیں گے۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے