شمالی وزیرستان میں سیز فائر اور امن کے لئے چھوٹے جرگے بیک چینل ڈپلومیسی کے طور پر کام کررہے ہیں،اب تک کی لڑائی میں47فوجیوں اور100سے زائد ئسکریت پسندوں کے جانیں ضائع ہوئیں ،گورنر سرحد ۔تفصیلی خبر:
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11اکتوبر۔2007ء )گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی محمد جان اورکزئی نے کہا کہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں سیز فائر اور امن کے قیام کے لئے بیک ثینل ڈپلومیسی کا سلسلہ جاری ہے اور جیسے ہی کوئی بریک تھرو ملے گا تب گرینڈ جرگہ قائم کرکے معاملات آگے لیجانے پر اور امن کے قیام پر بات کی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور میں نامزد نگران وزیر اعلی سرحد کی تقریب حلف وفاداری کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا گورنر سرحد نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں سیز فائر اور حالات معمول پر لانے کے لئے چھوٹے جرگے بیک چینل ڈپلومیسی کے طور پر کام کررہے ہیں اور جب ان کو کوئی بریک تھرو ملے گا تب گرینڈ جرگوں کے تشکیل کے لئے نمائندوں کا چناؤ ہوگا تاھم ابھی گرینڈ جرگے کی تشکیل پر کوئی کام نہیں ہورہا ہے وہاں پر ہونے والے جانی نقصانات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اب تک کی لڑائی میں 45سے47تک فوجی شہید ہوئے جبکہ دوسرے طرف سے مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوئیں کہ کتنی ہلاکتیں ہوچکی ہیں تاھم ارد گرد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ تعداد سو سے زائد ہوسکتی ہے صوبائی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں گورنر سرحد نے کہا کہ بہت جلد وزرء بھی فائنل ہوجائیں گے تاھم ان کے تعداد کاعلم نہیں اس بارے میں وزیر اعلی سے سوال کریں ایلک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا میں امن کے قیام کے لئے ہر ممکن اقداما اٹھا رہی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ معاملات باہمی جرگوں کے راستے حل ہوسکیں ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے