بند کریں
خواتین مضامینمضامینبارشوں سے خواتین کی مشکلات میں اضافہ

مزید مضامین

-
بارشوں سے خواتین کی مشکلات میں اضافہ
کنول شہزادی:
مون سون بارشوں کی جھڑی کیا لگی کہ گھر ہو یا باہر بارش کے پانی نے ہر طرف جل تھل کر دی۔تین دن تک مسلسل ہونے والی طوفانی بارش کی وجہ سے سینکڑوں دیہات اور گاوٴں زیر آب آگئے اسی طرح شہروں میں بھی پانی نے خوب تباہی مچائی۔کہیں گھروں میں پانی داخل ہو گیا تو کہیں چھتیں ٹپکنے لگیں۔یہ صورتحال گھریلو خواتین کیلئے درد سر بنی رہی۔فرنیچر سے لیکر برتن تک ہر چیز پانی میں ڈوب گئی۔گھروں سے پانی نکالنے کیلئے گھر کے تمام افراد خواتین کی مدد کرتے نظر آئے۔یوں خواتین کے کام میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا۔گھریلو امور کی انجام دہی کے ساتھ بارش کے پانی سے ہونے والی تباہی سے نمٹنا آسان کام نہیں ہوتا۔بارش کے ساتھ تیز ہوا کے باعث بہت سارے درخت بجلی کی تاروں پر جا گرے جس کی وجہ سے کئی گھنٹے تک بجلی کا سلسلہ منقطع رہا۔یوں لوگ بجلی سے محروم رہے آج کل ملکی صورتحال کے پیش نظر ہر کوئی سیاسی صورتحال سے باخبر رہنا چاہتا ہے لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بھی عوام خاصی پریشان رہی۔اس کے علاوہ دفاتر میں جانے والے اور تعلیمی اداروں میں پڑھنے والوں کو بھی دو دن تک چھٹی کرنی پڑی اور جنہوں نے آفسز اورکام پر جانے کیلئے ہمت سے کام لیا ان کی گاڑیوں اور بائیکوں نے پانی کی وجہ سے ان کا ساتھ نہ دیا یوں گھروں سے نکلنے والے پانی میں خوار ہوتے رہے ایسے میں رکشے والوں نے بھی کرائے دگنے کر دئیے۔بارش کے سبب کئی علاقوں میں ٹیلی فونک رابطے (لینڈ لائن)بھی منقطع رہے۔ دیواروں میں کہیں سیلن آیا تو کہیں دراڑیں ،ایسے میں پینٹ اور سفیدی خراب ہوئی اور فرش بیٹھ گئے۔پانی نکالنے کیلئے تمام دن خواتین ہاتھ میں وائپر اور جھاڑو لئے کام میں الجھی رہیں۔تیز بارشیں ہر برس گھریلو خواتین کیلئے ایک آزمائش بن جاتی ہے گھر کے تمام افراد کی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔سب پریشانی کے عالم میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔بارشوں نے خواتین کے لئے گھروں کو از سر نو سنوارنے اور تزین و آرائش کے کام کو بڑھا دیا ہے۔اب جن گھروں کی چھتیں گر گئیں اس کے نیتجے میں جانی نقصان بھی ہوا ان گھروں پر تو دوہری آفت آئی ایک تو جانیں گئیں دوسرا گھروں کی بربادی ہوئی۔اگرچہ بارش اور سیلاب ایسی آفات ارضی و سماوی پر انسان کو کوئی اختیار نہیں تاہم سیلاب سے بچاوٴ کیلئے اس مد میں اربوں روپے کا بجٹ مختص کرنے کے باوجود ملک کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں سیلابوں کی تباہ کاریوں کو کم کرنے اور شہروں میں نکاسی آب کا مثالی تو کیا کوئی معقول نظام بھی موجود ہو۔بلاشبہ پاکستانی ایک زندہ دل قوم ہے جو مشکلات مصائب و آلام اور قدرتی آفات کا مقابلہ بڑی جواں مردی سے کرتی ہے لیکن انتظامی اور حکومتی سطح پر بہت سی خامیاں متعلقہ محکموں میں موجود ہیں جو عوام کے مسائل میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔برسات کے دنوں میں پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں کی سڑکیں جھیل کا منظر پیش کرتی رہیں کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کردہ انڈر پاسز تالاب بنے رہے۔بارشوں کے باعث جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔ دیکھاجائے تو امریکہ چین سمیت تمام ممالک میں طوفانی بارشیں بھی ہوتی ہیں اور سیلاب بھی آتے ہیں ان ممالک میں باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے سیلاب سے بچاوٴ اور وارننگ کا مکمل نظام موجود ہے جس سے حفاظتی اقدامات کئے جاتے ہیں اور جان و مال کا نقصان کم سے کم ہوتا ہے۔اگرچہ پاکستان میں بھی فلڈ وارننگ کا ایک باقاعدہ محکمہ موجود ہے محکمہ موسمیات دریاوٴں کے اتار چڑھاوٴ اور موسم کی باقاعدہ پیش گوئی بھی کرتا ہے ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ سیلاب و طوفانی بارشوں سے نقصان پر نہ صرف قابو پایا جا سکے بلکہ سیلابی پانی کو ان ریگستانی علاقوں کی طرف موڑا جا سکے جو قحط سے دوچار ہیں۔اسی طرح نہ صرف قحط کی صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے کہ بلکہ ان علاقوں کو سیراب بھی کیا جا سکتا ہے۔ایسانہ کرنے سے سیلابی پانی ضائع ہو جاتا ہے اور اسے محفوظ نہ کرنے سے تباہی کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں سے تباہی حکومتی توجہ کی متقاضی ہے۔حکومت کا فرض ہے کہ وہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کو روکنے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے ڈیمز تعمیر کرے۔اس کے ساتھ ہی واسا سمیت تمام متعلقہ اداروں کی ناقص کاکردگی کو بھی درست کیا جائے جن کی کارکردگی کا ذرا سی بارش ہی کھول دیتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے