بند کریں
خواتین مضامینمضامینخواتین۔۔۔ ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں

مزید مضامین

-
خواتین۔۔۔ ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں
طاہرہ انعام:
اس ترقی یافتہ دور میں جہاں انسانوں کو دوسرے بڑے مسائل درپیش ہیں ان مسائل میں ایک بڑا مسئلہ ڈپریشن کا بھی ہے۔ اس میں وقتا فوقتاً اْداسی‘مایوسی اوربیزاری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عموماً یہ علامات ایک سے دو ہفتوں میں ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ اُداسی کی کوئی ٹھوس وجہ بھی ہوسکتی ہے اورنہیں بھی۔ اس دورانیے میں اپنے عزیز واقارب سے رجوع کرسکتے ہیں جوکہ اکثراوقات سود مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر اُداسی کی علامات برقرار رہیں‘ روزمرہ کی زندگی متاثر ہونے لگے اورعام تدابیر سے آفاقہ نہ آئے تو ڈپریشن کہلاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ڈپریشن ایک عام بیماری ہے اورکسی بھی وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس مسئلے کا شکار ہوسکتی ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ڈپریشن زیادہ پایا جاتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ مرد حضرات اپنے اندرونی دباوٴ کا اظہار سگریٹ پی کر غصہ کر کے کرلیتے ہیں جبکہ خواتین کے فرائض مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں‘ دیگر کاموں کے علاوہ گھریلو امور بھی انجام دینا ہوتے ہیں‘ ان میں بچوں کے مسائل‘کام کی زیادتی اور دیگرعوامل مل کر ڈپریشن میں اضافے کی بڑی وجہ بنتے ہیں جبکہ دیہاتی خواتین کے مقابلے میں شہری خواتین میں ڈپریشن کی اوسط شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔
ڈپریشن کی علامات:
ڈپریشن کی شدت اوردورانیہ معمولی اُداسی سے زیادہ طویل ہوتا ہے۔ مثلاً اکثر اوقات میں اُداسی‘ دل برداشتہ ہونا یا تفریح میں کمی‘فیصلے کرنے میں مشکلات ‘ جسمانی تھکن‘ بے چینی اور چڑچڑاپن ‘ بھوک میں کمی اوروزن کا گھٹنا(بعض افراد میں بھوک اوروزن کا اضافہ)نیند میں کمی اورپہلے سے جلد جاگنا‘ خود اعتمادی میں کمی‘ دن کے خاص پہر میں زیادہ علامات مگریہ ضروری نہیں کہ ایک مریض میں یہ تمام علامات موجود ہوں‘ عموماً چار سے پانچ علامتیں ڈپریشن کی تشخیص کرتی ہیں۔ اکثروبیشتر ہم ڈپریشن کی نشاندہی نہیں کرسکتے جس سے روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو مصروف کرنے کی کاوش میں ڈپریشن سے ہماری جدوجہد جاری رہتی ہے۔ ان تدابیر سے ہم مزید پریشانی اورتھکن میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ڈپریشن کی ظاہری علامات سریا جسمانی درد اور نیند میں کمی بھی ہوسکتی ہے۔
 ہرفرد کا تجربہ دوسرے فرد سے مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً ناامیدی ‘قریبی شخص یا چیز کا کھوجانا ‘ناکامی ‘تنہائی اور خاص طورپر بڑھاپے کی تنہائی بھی ڈپریشن کی وجہ بنتی ہے۔ کچھ لوگوں میں ڈپریشن کا بظاہر کوئی سماجی سبب یا وجہ نہیں پائی جاتی مگر پھربھی وہ ڈپریشن میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات موذی اورتکلیف دہ امراض ڈپریشن کا باعث بن سکتے ہیں مثلاً سرطان‘قلبی امراض اوردیگر بیماریاں وغیرہ ڈپریشن ایک نسل سے دوسری نسل تک بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر والد یا والدہ کو ڈپریشن لاحق ہے توبچوں میں 8گنا زیادہ خطرہ ہے مقابل اسکے جس فرد کے خاندان میں ڈپریشن نہ ہو۔
پندرہ میں سے ایک فرد کو ڈپریشن کے ساتھ انسو مینیا( دیوانہ پن) ہوتا ہے ماضی میں اس بیماری کو مینک ڈپریشن کہا جاتا تھا لیکن اب اسکا نام پولرآفکٹیوڈس آرڈر ہے۔ دیوانے پن میں مریض غیرمعمولی طورپر خوش اورپھرتیلے ہوتے ہیں اوروہ ایسی حرکات کربیٹھتے ہیں جو عام حالات میں نہیں کرتے۔ اس بیماری میں عورتوں اورمردوں کی شرح برابر ہے‘یہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوسکتا ہے۔ ڈپریشن کسی کمزوری کی علامت نہیں یہ مضبوط انسان کو بھی نڈھال کرسکتا ہے۔
معمولی درجے کی ڈپریشن کا علاج بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔ مریض ماہر نفسیات سے رجوع کر سکتا ہے۔ اگرمریض کی پریشانی ازدواجی مشکلات کی وجہ ہے تو متعلقہ ادارے سے رابطہ کیاجاسکتا ہے۔ اگر مریض کے افسردگی کی وجہ اپنے عزیز کی موت ہے تو اس ضمن میں مریض ادارے سے بات کرسکتا ہے۔ اگر مریض سمجھتا ہے کہ وہ اپنے احساسات رشتہ دار یا دوست کے ساتھ نہیں بانٹ سکتا تو ماہر نفسیاتی گفتگو مریض کا بوجھ ہلکا کرنے میں مدد گار ہوگا۔ طریقہ علاج یا تدبیر کا تعین مریض کی علالت اور اس کی شدت پر منحصر ہے‘بذریعہ گفتگوعلاج کچھ عرصہ تک جاری رہتا ہے اور ایک ملاقات کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹے پر محیط ہوتا ہے مگرعلاج کی مدت معالج طے کرتا ہے جسکا انحصار مرض کی نوعیت پر ہوتا ہے علاج بذریعہ گفتگو سے مریض کو یہ تسلی ملتی ہے کہ وہ تنہا نہیں اوراسکی بات سننے والا موجود ہے جوکہ صحیح سمت دکھاتا ہے۔
ڈپریشن کی ادویات کا استعمال شدید درجے کے ڈپریشن میں ہوتا ہے۔ اگرچہ دوائیاں خواب آور نہیں ہوتیں مگر مریض کو آرام پہنچاتی ہیں مریض کے مزاج میں بہتری آتی ہے اورمریض کے روزمرہ کے کام خوش اسلوبی سے انجام دے سکتے ہیں۔ ادویات کے استعمال کے شروع میں مریض کوئی بہتری محسوس نہیں کرے گا کیونکہ ان ادویات کے کام کرنے کا طریقہ دوسری ادویات سے مختلف ہے۔ اسکے علاوہ ڈاکٹر کی ہدایات پرعمل کرکے اس سے چھٹکارا پایاجاسکتا ہے۔ ڈپریشن مخالف ادویات صرف اورصرف ڈاکٹر کے مشورے اورہدایات پرہی استعمال کرنی چاہئیں‘ خود سے کوئی دوا ہرگز استعمال نہ کریں یہ آپ کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ تین سے چار ہفتوں میں ادویات کے باقاعدہ استعمال اورڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل کرنے سے مریض پر اچھے اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس سے مکمل بچاوٴ کیلئے ضروری ہے کہ علاج جاری رکھیں تاکہ مرض کی جانب لوٹنے کے امکانات کم سے کم رہ جائیں۔دوسری تمام ادویات کی طرح ڈپریشن مخالف ادویات کے بھی مضر اثرات ہوتے ہیں مگر یہ اثرات بہت کم درجے کا ہوسکتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ ختم بھی ہو سکتے ہیں۔
 ڈپریشن مخالف ادویات یا بذریعہ گفتگو علاج کا انحصار مریض کی علالت کی شدت پر ہے عام طورپر بذریعہ گفتگو علاج ہلکے اوردرمیانی درجے کے ڈپریشن میں استعمال ہوتا ہے جبکہ ادویات زیادہ شدت میں دی جا تی ہیں جب دوا لینے سے مریض کی طبیعت سنبھلنے لگے تو بذریعہ گفتگو علاج مفید ہوتا ہے اورکسی قسم کے ذہنی خلفشار کو کم کرتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ درمیانے درجے کے ڈپریشن میں بذریعہ گفتگو علاج اورڈپریشن مخالف ادویات میں کوئی فرق نہیں۔ اکثر ماہر نفسیات کا خیال ہے کہ ڈپریشن مخالف ادویات انتہائی درجے کی بیماری میں زیادہ کارآمد ہیں۔
ڈپریشن میں مبتلامریض کی بات سنیں اورسمجھیں ‘ ہوسکتا ہے کہ ایک بات آپ کو کئی مرتبہ سننی پڑے‘ خود سے کوئی مشورہ نہ دیں جب تک آپ سے پوچھا نہ جائے‘بے شک جواب آپکو کتنا ہی آسان کیوں نہ لگے۔ کئی دفعہ ڈپریشن کی وجہ کی نشاندہی آسان ہوتی ہے جسکا حل نکالنے میں آپ مریض کی مدد کرسکتے ہیں۔ مریض کے ساتھ وقت گزاریئے اور سہارا دیجئے‘ انکو بات کرنے کا مشورہ دیں اور ان کاموں میں انکی مدد کریں جووہ آسانی سے انجام دے سکیں۔ ڈپریشن کے مریض کو یہ یقین نہیں آتا کہ وہ بھی ٹھیک ہوں گے۔ آپکا کام انکی حوصلہ افزائی کرنا ہے اورشاید اپنے الفاظ آپکو کئی مرتبہ دہرانے بھی پڑیں۔ ڈپریشن کے شکار مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اسکو کسی کام میں مصروف رکھناچاہیے‘ اسکو لوگوں سے ملنا چاہیے اورلوگوں کو چاہیے کہ وہ اسکو مطمئن رکھنے کی کوشش کریں اوراسکو یہ سمجھائیں کہ وہ اکیلا ایسا شخص نہیں ہے جس کو یہ مسائل درپیش ہیں۔ اس طرح وہ پریشان کن حالات یا مسائل سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا اس کو چاہیے کہ اپنے آپ کو ان حالات سے نمٹنے کیلئے تیار رکھے۔
مریض اپنے ہر عمل میں توازن قائم کریں‘اپنے ذہن کو تروتازہ رکھنے کیلئے اچھی کتابیں پڑھیں اچھی محفلوں میں بیٹھیں اوراپنے آپ کو کرب وپریشانی میں مبتلا نہ ہونے دیں اپنے احساسات وجذبات کو زبردستی خود تک محدود نہ رکھیں‘ اگر آپ کو کوئی دکھ پریشانی ہے تو اسکا اظہار اپنے دوست احباب سے کریں اس سے آپ کا دکھ درد بٹ جائے گا اورہوسکتا ہے کہ وہ آپ کو کوئی مفید مشورہ بھی دیں۔ اگر آپ کا دل کام کرنے کونہ کرے تو خود پر جبر نہ کریں بلکہ اپنے معمولات زندگی کو ترک کرکے سیروتفریح کریں‘انسان کو چاہیے کہ زندگی میں ترتیب اور توازن پیدا کرے تاکہ ڈپریشن سے بچارہے‘ ان سب باتوں پر عمل کرکے وہ صحت مند بھی رہے گا اورڈپریشن میں کمی بھی آئے گی۔

(6) ووٹ وصول ہوئے