بند کریں
خواتین مضامینمضامین کچن سے کاروبار تک

مزید مضامین

-
کچن سے کاروبار تک
موجودہ دور میں انسانی ضروریات کا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ تحقیق و جْستجْوبھی میدان ِترقی میں ہوتی جاری ہیں۔ 1942ء میں فرانس کے ایک نوجوان نے ایک ایسی مشین ایجاد کی جو ہزاروں لاکھوں چیزوں کو جمع کرسکتی تھی، اس نوجوان کا نام بلیس پاسکل تھا اور اس کی ایجاد کردہ مشین کا نام کیلکولیٹر تھا۔ 1671ء میں جرمنی کے ایک ریاضی دان ولیم لایئنز نے پاسکل سے زیادہ جمع کرنی والی مشین ایجاد کرلی۔ اسی طرح چارلز بیبج دنیا میں”دنیائے کمپیوٹر“ کا اعزاز رکھتے ہیں۔آج کے ترقی یافتہ دور میں جدید ترین اور تیز تر ٹیکنالوجی دیکھنے میں آتی ہیں۔ میڈیا ٹیکنالوجی میں سوشل (معاشرتی) میڈیا کو تیز ترین کہا جاتا ہے اور یہ بھی بہت تیزی سے ترقی کر تا جا رہا ہے مگرہمیں جاننا ضروری ہوگا کہ سوشل میڈیا آخر ہے کیا۔اگریہ کہا جائے کہ معاشرے میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی بات کو دوسروں تک پھیلانا کو سوشل میڈیا کہتے ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ سوشل میڈیا معاشرے کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنے کا مطلب نہیں بلکہ یہ اک انقلابی آلہ کی مانند ہے جس کے ذریعے ہم معاشرے میں بہترین تبدیلی لاسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا مستقبل نامعلوم ہے لیکن یہ بات تو واضع ہے کہ یہ ایک بڑا اور مزید بہتر سے بہتر نیٹ ورک بنتا چلا جارہا ہے۔حال ہی میں پاکستان میں فیس بک کے صارفین کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ سے بڑھ گئی جو پاکستان کی کل آبادی کا سات فیصد کے قریب بنتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس تعداد میں زیادہ اضافہ سنہ 2013 کے دوران ہوا۔ دوسری مقبول ویب سائٹس میں ٹوئٹر، لنکڈ ان، پن ٹرسٹ، بلاگز، یوٹیوب اور ویمیو جیسی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹس شامل تھیں۔پاکستان کے سوشل میڈیا کے صارفین کا تعلق زیادہ تر شہری علاقوں سے ہے جن میں نوجوانوں کی اکثریت ہے۔تاہم سنہ 2013 کے دوران اس پر سیاست دانوں، اہم شخصیات کی موجودگی میں اضافہ ہوا جس نے اس کو ایک نیا مقام دیا۔اگلی نسل کے سیاست دانوں جیسا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری اگر سوشل میڈیا کو اپنا آلہ بنا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سوشل میڈیا پاکستان میں بہت آگے آیا ہے بلکہ روایتی میڈیا اسے استعمال کرتا ہے تو اس سے سنجیدگی بڑھی ہے۔دنیا کے جس گوشے تک تعلیم اور ٹیکنالوجی کی رسائی ہوچکی ہے وہاں سوشل میڈیا بھی موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی بزنس وومن خواتین کے بارے میں ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں جہاں خواتین مردوں کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی اپنا مقام بنارہی ہیں وہیں کاروبار بھی ایسا شعبہ ہے جہاں متعدد خواتین اپنی محنت اور کوشش سے کاروباری طبقے کا حصہ بن رہی ہیں۔ان کاروباری خواتین میں سے زیادہ تر خواتین اپنے ذاتی کاروبار سے وابستہ ہیں جنھوں نے چھوٹے پیمانے پر اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور اب اکثر خواتین آن لائن بزنس چلارہی ہیں۔مہوش جس نے حال ہی میں اپنا ایک بیوٹی پارلر کھولا ہے کے مطابق بیوٹی پارلر میں ویسے تو کئی خواتین گاہک آرہی ہیں مگر جب سے انھوں نے اپنے اس بیوٹی پارلر کا ایک فیس بک پیج تخلیق کیا ہے، ان کی گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں انہیں سوشل میڈیا پر اپنے بزنس کی پروموشن کا اچھا نتیجہ حاصل ہورہا ہے۔خواتین کا کہنا ہے کہ جہاں انھیں اپنے کاروباری کے فروغ میں کئی مسائل درپیش ہیں وہیں سوشل میڈیا پیجز پر موجود لوگوں کو موجودہ ایپلی کیشن کے بارے میں بتانا پڑتا ہے۔اگر کوئی فیس بک استعمال کررہا ہے تو وہ گوگل پیج سے واقف نہیں اور ایسے ہی کئی افراد ہیں جو انٹرنیٹ پر ہر ایپلی کیشن استعمال کرنا ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔ ایسے میں ان کو دوسری ایپلی کیشن جوائن کروانے میں کافی محنت لگتی ہے۔گوگل' بزنس گروپ، 'وومن کراچی' کے مینجر امتیاز نورکی طرف سے موصولہ ایک ای میل کے مطابق اکثر خواتین اپنے کاروباری معاملات زیر بحث نہیں لاتی ہیں جس کیلئے ایسی آگاہی ورکشاپ اور کانفرنس معاون ثابت ہوتی ہیں جب خواتین ایک ساتھ مل کر بیٹھ کر معاملات اور اپنے کاروباری مسائل کے حل زیر بحث لائیں تو کوئی شک نہیں کہ کاروباری خواتین کے مسائل کافی حد تک حل ہوسکیں۔مرد حضرات تو اپنے مسائل کھل کر شیئر کرتے ہیں جبکہ خواتین کو ہی کاروباری خواتین کے درمیان ان معاملات میں کافی خلا ہے جسے دور کرنیکی ضرورت ہے۔ اگر کوئی خاتون کوئی کاروبار شروع کرنا چاہ رہی ہیں اور کئی مسائل کے باعث نہیں کرپارہی ہیں تو انھیں چاہئے کہ اپنے مسائل کو پیشہ ورانہ کاروباری خواتین کے ساتھ ملکر بات کرکے حل کریں۔یقینا آن لائن طریقے سے بزنس کو پروموٹ کرنا آسان ہے وہاں آپ کو کئی ایسے افرادآن لائن ملتے ہیں جو کہ عملی زندگی میں نا مل پائیں اور اسکی جدید شکل اب موبائل فون ہے جہاں ہر ایپلی کیشن کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے۔ پچھلے دنوں مشہور سرچ انجن چلانے والی 'گوگل' کمپنی کی جانب سے خواتین کو انٹرنیٹ کے نئے طریقوں سے متعارف کرنے کیلئے ایک کانفرنس لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی جہاں چھوٹے پیمانے کا کاروبار کرنیوالی خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور انھوں نے اپنے تجربات پیش کئے اور کئی مفید مشورے بھی حاصل کئے۔سوشل میڈیا تجارتی ،پیشہ وارانہ،اور ذاتی برینڈ سازی کے لئے زبر دست امکانات رکھتا ہے،اگر معیار کو مزید بہتر بنایا جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ مثبت نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں یہ معلومات کا ایک بہترین زریعہ ہے ایک سروے رپوٹ کے مطابق اس سے براہ راست آن لائن کاروبار اور آمدنی 70سے 80 فی صد تک اضافہ ممکن ہے ،سوشل میڈیا سے اردو زبان کی فروغ میں اضافہ ہوا ہے اگرچہ چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی اور پیشہ وارانہ تربیت کی کمی کی وجہ سے کتابت کی بہت سے غلطیاں یہاں بھی سرزد ہو رہی ہیں۔
سوشل میڈیا کی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی صلاحیت کی ایک اور مثال ’لبنانی خواتین کا حقِ قومیت اور مکمل شہریت‘ ہے جس نے لبنانی خواتین کو اپنی شہریت اپنے بچّوں کو منتقل کرنے کا حق دینے کی حمایت میں فیس بْک پر بیس ہزار سے زائد ارکان اکٹھے کر لئے ہیں۔ اس پلیٹ فارم نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو ایک دوسرے سے مِلنے اور یہ دریافت کرنے کے قابل بنایا ہے کہ دوسرے عقائد کے پیروکار بھی وہی سوچ سکتے ہیں، بلکہ سوچتے ہیں، جو ہم سوچتے ہیں۔اس قسم کی سرگرمیاں سماجی ہم آہنگی کے احساس کو مضبوط بناتی ہیں اور مختلف پس منظر رکھنے کے باوجود لوگوں کو ان چیزوں پر توجہ دینے میں مدد دیتی ہیں جو ان کے مابین مشترک ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لئے بھی ایک موٴثر وسیلہ جنہیں معاشرے کا کمزور طبقہ بنا دیا گیا تھا اور اب وہ اس قابل ہو گئے ہیں کہ اپنی پریشانیوں کے بارے میں آواز بلند کرکے سارے مْلک سے حمایت اکٹھی کر سکیں۔اسلام آباد میں دو روزہ سوشل میڈیا سمٹ جس کا مقصد سماجی تبدیلی میں سوشل میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالنا اور جس کا انعقاد 'پاکستان امریکہ المنائی نیٹ ورک' اور 'پروگریسو یوتھ فورم' نے کیا تھا اور، جس میں تین سو سے زائد صحافی، بلاگرز، سماجی کارکن، طلبا و طالبات اور امریکہ میں تعلیم پانے والے سابق طلبہ نے مختلف موضوعات پر اپنے تجربات اور خیالات کااظہار کیا جیسی کانفرنس کے پہلے روز ممتاز صحافیوں، سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی کے ماہرین اور کاروباری افراد نے نوجوانوں کی سر گرمیوں میں سوشل میڈیا کے کردار کے ساتھ ساتھ فروغِ امن، خواتین کو با اختیار بنانے، کاروبار اور صحافت میں سوشل میڈیا کے استعمال اور اثرات پر بھی گفتگو کی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستانیوں کو سلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سوشل میڈیا پر انفرادی آوازیں اتنی طاقت ور کبھی بھی نہ تھیں اور یہ سفر جاری رہنا چاہئے۔دنیا کے چھے آباد براعظموں میں بسنے والی اقوام میں سے کون سی ایسی قوم ہوگی جس کے افراد کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی سوشل ویب سائٹ سے وابستہ نہیں۔ حکم راں، سیاست داں، کھرب پتی سرمایہ دار، نام ور اداکار اور گلوکار، مذہبی شخصیات، شاعر، ادیب، مصور، غرض یہ کہ ہر پیشے اور شعبے کے معروف اور غیر معروف لوگ سوشل میڈیا سے تعلق جوڑے ہوئے ہیں۔
سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس نے بکھرے ہوئے خاندانوں کے افراد اور بچھڑے ہوئے دوستوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کا بہت آسان ذریعہ فراہم کیا ہے اور دنیا کے ہر فرد کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود اپنے ہم خیال اور یکساں ذوق وشوق کے حامل افراد سے دوستی کرے اور رابطے میں رہتے ہوئے باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ”سوشل میڈیا کا عالمی دن“ بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔سوشل میڈیا کے دن یا ”یوم سماجی میڈیا“ کی شروعات 2010 میں کچھ تقریبات سے ہوئی تھی، پھر رفتہ رفتہ یہ ایونٹ عالمی سطح کا دن بن گیا، جسے دنیا کے مختلف ممالک میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ امریکا کی ریاست ایریزونا وہ پہلی امریکی ریاست ہے جس نے سوشل میڈیا کا دن سرکاری طور پر منانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اب مزید دو امریکی ریاستیں نویڈا اور میسوری بھی ایریزونا کی پیروی کرتے ہوئے یہ دن مناتی ہیں۔سوشل میڈیا سے مراد ویب اور موبائل ٹیکنالوجی پر مبنی روابط کے ذرائع ہیں۔ اندریس کپلن اور مائیکل ہینلین نے اپنے طور پر سوشل میڈیا کی وضاحت کچھ اس طرح کی ہے کہ نظریاتی اور تکینکی بنیادوں پر صارف کی پیدا ہونے والے مواد کی تخلیق اور تبادلہ کی اجازت دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا سماجی مواصلات سے آگے ایک سْپر سیٹ کے طور پر سماجی تعلقات کے لیے میڈیا ہیں۔سوشل میڈیا تنظیموں کے معاشروں اور افراد کے درمیان ہر موجود اور قابل رسائی توسیع پذیر متعارف کرانے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ انٹرنیٹ فورم، ویب لاگ، سماجی بلاگز، مائکرو بلوگنگ، ویکیز، ویڈیو، تصاویر، درجہ بندی، سماجی بکْ مارکنگ سمیت کئی اقسام سوشل میڈیامیں شامل کی جاتی ہیں۔ میڈیا تحقیق کے میدان میں اصولْوں کا ایک مجموعہ لگانے سے سماجی موجودگی، میڈیا سماجی عمل (خود حضوری)، خود انکشاف کے حوالے سے کپلن اور ہینلین نے 2010ء میں اپنا ایک مضمون شائع کرایا جس میں مختلف سوشل میڈیا کی اقسام اور ان کے کاروبا ر کے افق کا دعویٰ کیا گیا۔
کپلن اور ہینلین کے مطابق سوشل میڈیا کی کْل چھ مختلف اقسام بتائی گئی ہیں۔ باہمی تعاون کے ساتھ ساتھ جیسے وکیپیڈیا، بلاگز اور مائکرو بلاگز مثلاََ ٹوئیٹر قناعت پسند سماج مثلاََ یوٹیوب، سوشل نیٹ ورکنگ ویب ئٹس جیسے کہ فیس بْک اور دنیاوی سماجی خیال مثلاََ سیکنڈ لائف… ان تمام منصوبوں میں یہ ٹیکنالوجیز شامل ہیں: بلاگز، تصویر شراکت، وی لوگز، وال پوسٹنگ، ای میل، فوری پیغام رسائی، موسیقی شراکت، کراڈ سورزنگی اور وائزاْور آئی پی وغیرہ استعمال ہوتی ہیں۔ ان تمام کی وجہ سے سوشل میڈیا کی خدمات کے ذریعے بہت سے لوگوں نے سوشل نیٹ ورک کے راستے پلیٹ فورمز کے استعمال سے لوگوں کو جمع کرکے ایک اجتماع قائم کرسکتے ہیں۔سوشل میڈیا کا استعمال بہت پہلے سے ہی شروع ہو گیا تھا مگر اْس کی ترقی اور مزید بہتری کے لیے محنت جاری رہی اور آخر صارف تک پہنچنے میں وقت درکا ر ہوامگراب اس کی واقفیت وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی چلی جارہی ہے۔سوشل میڈیا کے ساتھ معاشرے میں امن کی ضرورت بھی ہیں۔ احتسابی اعتبارسے ہمیں غیر ضروری باتوں سے گریز کرنا لازمی ہوگا جس سے ہم نیٹ ورک کے ساتھ معاشرے میں بھی امن کو مستحکم کرسکے۔اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا کا استعمال اچھی اور بہتری کے مقصد کے لیے کرے اور وہ مقاصد ہماری سوچ پر زیادہ انحصار کرے۔میں یہ ذاتی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ تخلیقی صلاحیتوں کے لیے سوشل میڈیا ایک زبردست سہرا ہے جو کے لوگوں میں تخلیقت اور اْس کو دنیا میں اْجاگر کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ لوگ سوشل میڈیا کے پلیٹ فورم میں شامل ہوتے جارہے ہیں۔ اگر ہم یوٹیوب ( جس کو آجکل پاکستان میں پابندی کا سامنا ہے )ویب سائٹ کے بارے میں بات کریں تو یہ وہ ویب سائٹ ہے جہاں پر ہم لوگ صارفین کی حیثیت سے ویڈیوز اپ لوڈ کرسکتے ہیں اور یہ ویڈیوز پوری دنیا کے لوگوں کے لئے فراہم کی جا سکتی ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی چیز کے پھیلنے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند سال پہلے بنگلہ دیش کے امریکی شہری جن کا نام سلمان خان اور ان کا تعلق خان اکیڈمی سے ہے۔ انہوں نے یوٹیوب پر اپنے رشتہ دار کے لیے ریاضی، سائنس سے وابستہ ویڈیوز اپ لوڈ کی تھیں جو کہ دنیا میں لاکھوں لوگوں نے دیکھیں یہاں تک کہ دنیا کی سب سے بڑی سوفٹ وئیر کمپنی مائیکروسوفٹ کے بانی و چئیرمین بل گیٹس اور ان کے بچوں نے بھی دیکھیں۔ اسی طرح ورڈ پر یس بلوگ کے ذریعے ہم لکھنے اور تخلیقت کی نمائش کرسکتے ہیں، ہمارے پاس اس طرح کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔سائنسی و ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کے مرکز سے کچھ یا تمام سات کے سات فرائض کے ذریعے بلاگز کو تعمیر کیا جاسکتا ہیں۔ جیسے کہ (شناخت، شراکت، موجودگی، تعلقات، شہرت، جماعت بندگی اور گفتگو… ان تمام کی وجہ سے سوشل میڈیا سامعین کی مصروفیت، شغل کو سمجھنے کی اچھی خاصی مدد حاصل ہوجاتی اور اسی کے ذریعے اپنے بلاگز کو بہترین طریقے سے تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کی مد د سے تجارت کر کے ملک کی معیشت کو بھی مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ ہم امید رکھ سکتے کہ آنے والی اگلی نسل انتہائی تخلیقی صلاحیت کی مالک ہوگی جوکہ دنیا میں علم حرکیات کو وجود میں لانے کے لیے کافی مدد دے کرسکتی ہیں جس کی بنیاد پر دنیا اور بھی دلچسپ لگنے لگے گی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اشفاق رحمانی

اشفاق رحمانی کے مزید مضامین پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-