بند کریں
خواتین مضامینمضامینتنقید کا شوق

مزید مضامین

-
تنقید کا شوق
تہمینہ رانا:
ہم آج بھی ترقی یافتہ زندگی کی سہولتوں سے مستفید ہونے کے باوجود زہنی طور پر بلوغت سے دور نظر آتے ہیں۔ مفرہی ماحول کو اپنانا، سیاحت، علاج معالجہ، تعلیم و تربیت وغیرہ کیلئے مغرب جانا باعث فخر محسوس کرتے ہیں مگر اُسی مغرب پر بے جا تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ کیا ہم اس دوھرے معیار زندگی سے چھٹکارا پاکر مثبت رویوں اور طرز زندگی کی طرف راغب ہو سکتے ہیں؟
جب بھی کوئی توقع واقعہ یا حادثہ رونما ہوتا ہے ہم سوچے سمجھے بغیر دوسروں کو نہ صرف اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں بلکہ فخر یہ اپنا کیا بھی دوسرے کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ کیا اپنی غلطی کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا انسانیت کی زمرے میں آتا ہے؟ ہمارا مذہب ،اقداد اور اخلاقیات اس قبیح فعل کی حمایت ہرگز نہیں کرتے۔ ہم کب تک فرسودہ روایات کی حمایت کو قسمت کے لکھے سے تعبیر کرتے رہیں گے۔ کیا ہم کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی جرات بھی کر پائیں گئے؟
کسی کام کے بگڑنے کا اصل سبب جانے بغیر اپنی غلطی دوسروں کے سر تھوپ دینا اور پھر یہ کہہ کرجان چھڑا لینا کہ ”قسمت میں ایسے ہی لکھا تھا“ ہوتا ہے۔ ایسی فرسودہ روایات اور رویوں کی حوصلہ شکنی نہ کرنے کی وجہ سے ہی معاشرے میں غلط فہمی اقدار پنپ رہی ہیں اور اس کی سزا اُن معصوموں کو ملتی ہے جو جرم کرنا تو دوکنار اُس کا کبھی حصہ نہیں ہوتے۔
الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا پر پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو سنگسار کرنے ، ونی یا کارو کاری جیسی گٹھیا رسومات کی بھینٹ چڑھائے جانے کی خبریں دیکھتے ہیں۔ اسلام میں بالغ مرد اور عورت کو اُس کی پسند کے عین مطابق جیون ساتھی چننے کا حق حاصل ہے مگر اسکے باوجود ہمارے ہاں نام نہاد عزت کے ٹھیکیداروں کو اُن کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا کہ وہ کمسن معصوم بچی کو سزا کے طور پر کسی بوڑھے کے پلے باندھ دیں اور وہ بھی عمر بھی کیلئے۔ یہ بھی دوسروں پر خوامخواہ کی تنقید کے ضمن میں آتا ہے۔ اسلام کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے اختیارا ت سے تجاوز کر کے معاشرے میں بدامنی ، خوف و دہشت کی فضا ہموار کرے۔
بچہ پڑھنے کی بجائے سارا دن ون ویلنگ جیسی خطر ناک سرگرمی میں ملوث ہو یا ساری رات نائٹ پیکیجز پر دوستوں سے گپ شپ کر کے وقت ضائع کرتا ہو تو قصور وار اپنی ادھوری شخصیت جس کی وجہ سے اُ س کی تربیت میں کمی رہ گئی کو نہیں ٹھہراتے بلکہ سارا غلبہ مغربی ماحول پر تنقید کر کے نکالتے ہیں۔بیشتر اس کے کہ ہم یہ سوچیں کہ کمی تو ہمی میں رہ گئی ، قصور وار ہم مغربی تہذیب وتمدن کو ٹھہرا رہے ہیں کہ انٹرنیٹ اور موبائل نے بچے بگاڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ بے شک یہ ایجادات مغرب کی مرہون منت ہیں مگر مغرب والے آکر تو نہیں سکھاتے کہ اس کو غیر ذمہ دار انداز میں استعمال کریں ۔یہ توآپ کے اپنے بس میں ہے کہ آپ ان سہولتوں کا مثبت یا منفی انداز میں استعمال کرتے ہیں۔
دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے کی بیماری ہندوستان میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ بھارتی سیاستدان وہاں بڑھتے ہوئے جنسی درندگی کے واقعات کا ذمہ دار منی سکرٹس اور فاسٹ فوڈ کو ٹھہراتے ہیں ۔ بھارتی سیاستدانوں کا یہ بیان مضحکہ خیز ہے۔ مغرب اور مغربی تہذیب کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے باوجود ہم میں سے اکثر کو جب بھی امریکہ، یورپ یا کینیڈا وغیرہ میگریشن کا موقع ملتا ہے توہر بات کو بالائے طاق رکھ کر مغرب سدھار جاتے ہیں۔ اُن کے انگریزی کھانے کھاتے ہیں، جینزٹی شرٹس پہنتے ہیں،انہی کا میوزک بھی سنتے ہیں اور فلمیں دیکھتے ہیں، اسکے باوجود دوسروں پر تنقید کرنے سے نہیں رُکتے۔
کسی کو اگر مغرب یامغربی ماحول یا کوئی اور چیز پسند نہیں تو اسے چاہیے کہ اس کو نہ اپنائے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذات میں چھپی کمی اور کوتاہیوں کا احتساب کرئے۔ دوسروں پر خوامخواہ اتنقید کرنے کی بجائے اپنے آپ کو بہتر بنائیں اور اپنی روایات کا احترام کرتے ہوئے حقیقت پسند انہ رویوں کو ا پنائیں۔ دوسروں پر تنقید کرنا دراصل حقیقت سے منہ موڑنا اور خود فریبی کے مترادف ہے ۔ ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہر شخص اپنا احتساب خود کرے، ورنہ ہم غلط روایات کو خود پر اس حدتک حاوی کر لیں گئے کہ سسٹم ک ساتھ خود بھی مفلوج ہو کر معذوروں جیسی زندگی گزاریں گے۔

(4) ووٹ وصول ہوئے