EDWORD JEENZ

ایڈورڈجینر

بدھ نومبر

EDWORD JEENZ

انگریز طبیب ایڈورڈجینر ہی وہ شخص تھا‘جس نے چیچک جیسی ہولناک بیماری کے خلاف ویکسین کا ٹیکہ لگانے کی حفاظتی تدبیر متعارف کی ۔
آج ہم جینر کے شکر گزار ہیں کہ چیچک کی بیماری دنیا میں ختم ہو چکی ہے ۔ہم ان خوفناک اموات کوفراموش کر دینے کی کوشش کرتے ہیں جو قدیم صدیوں میں اس بیماری کے سبب ہوئیں ۔یہ اس قدرمہلک ہے کہ اس کے مریضوں میں 10سے 20 فیصد تک مر جاتے ہیں ۔

جو بچ رہتے ہیں ۔ان میں دس سے پندرہ فیصد افراد کی ننھے چیچک کے دانوں سے ہمیشہ کے لیے صورت بگڑ جاتی ہے ۔چیچک کا مرض صرف یورپ تک ہی محدود نہیں تھا ‘بلکہ اس نے شمالی امریکہ ‘ہندوستان ‘چین اور دنیا کے متعدد ممالک میں بھی تباہی پھیلائی ۔ہر جگہ بچے اس کا مرغوب شکار رہے ۔
سالہا سال سے چیچک کے سدباب کے لیے حفاظتی اقدامات وضع کرنے کی کاوشیں جاری تھیں ۔

(جاری ہے)

بہت پہلے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ جو شخص ایک بار چیچک کی بیماری کی زد میں آتا ہے ،اس کے بعد تاحیات وہ اس میں مبتلا نہیں ہوتا ۔مشرق میں اس سے یہ روایت پیدا ہوئی ۔صحت مند لوگوں کو ان لوگوں کے خون وغیرہ کا ٹیکہ لگا یا جاتا جنہیں یہ بیماری معمولی حد تک ہوتی ۔یہ اس موقع پر کیا جاتا کہ صحت مند آدمی اس طور خود بھی معمولی درجہ کے مرض میں مبتلا ہو گا ‘اور جب ایک باروہ صحت مند ہو گا تو پھر ہمیشہ اس سے غیر متاثر رہے گا ۔


اس روایت کو انگلستان میں اٹھارہویں صدی کے اوائل میں لیڈی میری وورٹلے مونٹا گونے متعارف کروایا ۔جینر کی پیدائش سے کئی سال پہلے یہ روایت عام ہو چکی تھی ۔خود جینر کو جب وہ آٹھ سال کا تھا ‘اس طریقے سے ٹیکہ لگا ۔لیکن اس خام حفاظتی تدبیر میں بڑی قباحت تھی ۔اس طریقے سے ان صحت مند لوگوں پر بیماری کا معمولی حملہ نہ ہوتا بلکہ شدید مہلک حملہ ہوتا جس سے ان کا سارا جسم دانوں سے بھرجاتا ۔

حقیقت یہ تھی کہ ٹیکہ لگائے جانے والوں میں دو فیصد لوگ چیچک کے شدید حملے کا شکار ہوتے ۔ظاہر ہے کہ ایک بہتر طریقہ کار کی اشد ضرورت تھی ۔
1949ء میں جینر انگلستان میں گلو سسٹر شائر کے قصبہ ہر کلے میں پیدا ہوا ۔بارہ برس کی عمر میں وہ ایک سر جن کے ہاں ملازم ہو گیا ۔بعدازاں اس نے علم تشریح الابدان کا مطالعہ کیا اور ایک ہسپتال میں کام کرنے لگا۔

1792ء میں اسے سینٹ اینڈ یوزیونیورسٹی سے طب کی ڈگری ملی ۔40کی دہائی کے وسط میں وہ گلو سسٹر شائر میں ایک معالج اور سرجن کے طور پر خاصا کامیاب تھا ۔
جینر اس عوامی عقیدے سے آگاہ تھا جو وہاں گوالوں اور کسانوں میں عام تھا کہ اگر کسی شخص کو گوتھن سیتلا (Cowpox)ہوجائے جو مویشیوں کی بیماری تھی اور انسانوں میں بھی منتقل ہو جاتی تھی ‘تو وہ شخص تا عمر چیچک سے محفوظ رہتا ہے (گوتھن سیتلا بجائے خود انسانوں کے لیے مہلک بیماری نہیں ہے ۔

حالانکہ اس کی علامات اکثر ان علامات سے مشابہہ ہوتی ہیں ‘جو چیچک کے انتہائی حملہ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے )۔جینر نے محسوس کیا کہ اگر کسانوں کا یہ عقیدہ درست ہے تو گوتھن سیتلا کے مواد کو چیچک کے خلاف انسان میں داخل کرنا ایک زیادہ محفوظ تدبیر ہو گی ۔اس نے اس معاملے پر تحقیق کی ۔1796ء تک وہ جان گیا کہ یہ عوامی عقیدہ درست تھا ۔سواس نے اپنے طریقہ کار کے براہ راست اطلاق کا فیصلہ کیا۔


مئی1796ء میں جینر نے ایک گوالے کے ہاتھ پر نکلے گوتھن سیتلا(Cowpox)کے دانے سے مواد لے کر ایک آٹھ سالہ بچے جینر فپس کو ٹیکہ لگایا۔جیسا کہ متوقع تھا‘لڑکے میں گوتھن سیتلا کے دانے ظاہر ہوئے لیکن پھرجلد ہی وہ صحت یاب ہو گیا ۔کئی ہفتوں کے بعد جینر نے فپس کو چیچک کے مواد کا ٹیکہ لگا یا ۔تا ہم بچے میں بیماری کے کوئی آثار پیدا نہیں ہوئے۔


مزید کچھ تحقیق کے بعد جینر نے اپنے نتائج کو ایک مختصر کتاب ”چیچک کوویکسین کے اسباب اور اثرات کے متعلق تحقیق “میں رقم کیا جو 1788ء میں اس نے خود ہی چھپایا۔ اسی کتاب کے باعث ویکسین کو جلد ہی عام استعمال کیاجانے لگا ۔جینر نے بعد ازاں ویکسین سے متعلق پانچ مزید مقالے تحریر کیے ۔سالہا سال تک اس نے اپنا بیشتر وقت اپنے طریقہ کار کے علم کی تشہیر اور اسے اپنانے کے عمل کو بہتر بنانے پر صرف کیا۔


انگلستان میں ویکسین کا استعمال شتابی سے عام ہوا۔جلد ہی برطانوی بری اور بحری فوج میں بھی اس کے استعمال کو ضروری قرار دے دیا گیا۔
جینر نے اپنے طریقے کار کے عام استعمال کی اجازت دے دی اور اس سے نفع کمانے کا خیال دل میں نہ لایا۔تا ہم 1802ء میں برطانوی مجلس قانون ساز نے شکر گزاری کے طور پر اسے دس ہزار پاؤنڈ انعام دیا۔چند سال بعد مجلس نے اسے مزید بیس ہزار پاؤنڈ مرحمت کیے۔

اسے عالمگیر شہرت ملی‘اور متعدد اعزازات اور تمغے دیے گئے۔جینر تین بچوں کا باپ تھا۔وہ تہتر برس کی عمر میں 1823ء میں اپنے آبائی قصبہ بر کلے میں فوت ہوا ۔
جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں ‘جینر اس خیال کا بانی نہیں تھا ‘یہ خیال عام تھا گو تھن سیتلا چیچک کے خلاف موثر ہے ۔اس نے اسے دوسروں سے سنا ۔بلکہ یہ بھی سنا گیا ہے کہ جینر کے سامنے آنے سے قبل چند افراد کو عمدگوتھن سیتلا کے مواد کے ٹیکے لگاکر تجربات کیے جا چکے تھے۔


اگر چہ جینر ایک حیران کن حقیقی سائنس دان نہیں تھا لیکن انسانیت کو اپنے کسی فعل سے اتنا فائدہ کم ہی لوگوں نے پہنچایاہو گا ۔اس نے اپنی تحقیقات‘تجربات اور تحریروں کے ذریعے ایک عوامی عقیدے کو‘جسے طب کے ماہرین نے کبھی درخور اعتنانہ جانا ایک باوقار حیثیت دی جس سے ان گنت لوگوں نے استفادہ کیا۔سو ہر چند کہ جینر کا طریقہ کا رفقط ایک ہی بیماری سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بیماری معمولی تو نہیں تھی ۔وہ اس اعزاز کا واقعتا مستحق ہے جسے اس کی نسل اور بعد کی تمام نسلوں نے اسے دیا ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2018-11-07

Your Thoughts and Comments