Banjar Aurtain

بنجر عورتیں

عاطف ندیم جمعرات مارچ

Banjar Aurtain
کچن سے فارغ ہوتے ہی وہ بچوں کی طرف لپکی ،،مگر بچے سو چکے تھے،،اس سے بڑی تکلیف ایک ماں کے لیے اورکیا ہو سکتی ہے، کہ اس کے معصوم بچے ،لوری کے بغیر سو نے کے عادی ہو چکے ہیں۔اب ،اکثر وہ بھی احساس ندامت لیے، خاموشی سے بچوں کے بیچ لیٹ جاتی اوراپنی اس لاپروائی کی وجہ سے خود کو کوسنا شروع ہو جاتی: "ہاں! بنجر ہی تو ہیں ہم جیسی عورتیں، اور،،،، اور میں،،، میں بھی تو بنجر ہوں، بالکل زمین کے اس ٹکڑے کی مانند، جس پر ہمیشہ خاک اڑتی رہتی ہے،ایک ایسا وجود ہوں میں،،،، جس سے کسی کو فیض نہیں مل سکتا،، حتی کہ ان معصوم بچوں کو بھی۔

مگر یہ سب میری غلطی تو نہیں!!،، میری اس خاک اڑاتی زندگی کا قصور وار تو وہ ہے!! جس نے تعلیم کی دولت مجھ سے چھین کر،،خاک کو میرا مقدر بنا دیا۔۔اب تعلیم کی جگہ یہ خاک میری نسلوں کو بھی ویران اور بنجر کر دے گی۔

(جاری ہے)

۔۔ اللہ تو کائنات پر غوروفکر کی دعوت دے رہا ہے، اورکتاب وقلم ہی تو ایک انسان پر غوروفکر کی رائیں کھولتی ہیں،،،،مگر !!!! خدائی پر تو مجازی خدا حاکم ہے,!!! اور یہ مجازی خدا بھلا عورت کے ہاتھ میں یہ روشنی کب پسند کرتا ہے۔

بھلا کتاب،قلم اور علم کے بغیر بشر و حیوان میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے۔۔۔کتنے فخر سے دوستوں کو کہتی تھی کہ "وہ انسان ہی کیا جو دنیا کی بھلائی کے لیے کچھ نہ کرسکے"،،اور یہ فقرہ تو ایک ایسا چراغ تھا، جس کی روشنی سے میں نے ایک جہاں روشن کرنا تھا،، مگر اب! ! جہاں تو دور کی بات ہے میں تو اپنے دو بچوں کے لیے بھی کچھ نہیں کر پارہی،، کیسے کچھ کر سکتی ہوں میں؟؟میرے تو ہاتھ ہی کٹے ہوئے ہیں نا،،،، اسی لیے بنجر ہی تو ہوں میں،،،،، اور مجھے ،میری زندگی کو بنجر بنانے والا اس معاشرے کا مرد ہے،،جو ہمیشہ سے،،، اپنی انا اور غیرت کے نام پر ،عورت سے وہ کچھ بھی چھین رہا ہے ،جو اس عورت کو اس کے خالق نے عطا کر رکھا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "بیٹے کے ایڈمیشن کے سلسلے میں وہ کسی اچھے کالج کی تلاش میں تھا، ایک دوست کے بتانے پر آج وہ ایک کالج میں کچھ ضروری معلومات لینے جا رہا تھا۔ وہ خود ایک پروفیسر تھا اسی لیے اپنے بیٹے کی تعلیم کے لیے شہر کے کسی اعلی تعلیمی ادارے کا انتخاب کرنا چاہتا تھا۔ گارڈ کو اپنا آئی ڈی کارڈ دکھانے کے بعد وہ کالج میں داخل ہوا۔

حسب معمول آج پھر شدید گرمی تھی،اسی لیے ،،کوٹ اور ٹائی وہ گاڑی میں ہی رکھ آیا تھا، وہ ایڈمن آفس کی تلاش میں تھااب،،، کچھ فاصلے پر ایک لڑکی ٹیبل پر رکھی کتابوں کو ترتیب دینے میں مصروف تھی،،، یا شاید اس میز سے گرد جھاڑرہی تھی،،، وہ اسی لڑکی کی جانب بڑھا کہ ایڈمن آفس کے بارے میں پوچھ سکے،،،،"سنیں!! یہ ایڈمن آفس کس طرف ہے۔" "وہ جواب دینے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر جواب دینا بھول ہی گئی۔

" "تم !! تم کیا کر رہی ہو یہاں!!!؟؟ اور یہ ،،،،،،،،،یہ تمھارے ہاتھ میں کیا ہے ؟؟" " دکھائی نہیں دیتا آپ کو، کہ میں کیا کر رہی ہوں۔" جلد ہی اس نے اپنے حواس بحال کیے، کیونکہ وہ اس شخص کے سامنے کمزور نہیں ہو نا چاہتی تھی کہ جس کہ وجہ سے آج وہ اس حال میں ہے۔ "تم یہاں اس حال میں! !! کسی نے تمہیں پہچان لیا تو!؟ کیا سوچیں گے سب،، اور! اور کیا عزت رہے جائے گی میری؟۔

" " آج بھی اپنی ہی پرواہ ہے آپکو!!!آج بھی اپنی ہی عزت کی فکر ہے!!!۔بہت خوب جناب،، ان چار سالوں نے مجھے کہاں سے کہاں لا کھڑاکردیا،،، مگر آپ کی سوچ؟وہ تو آج بھی نہیں بدلی ۔" "ہاں ٹھیک کہتی ہو تم،،اگر میری سوچ نہیں بدلی تو تمھاری زبان ،تمھارا لہجہ بھی ابھی تک وہی ہے۔" " آپ کو ایڈمیشن بلاک جانا ہے نا؟ تو وہ رہا آپ کی دائیں طرف۔اور ہاں!!میں آپ کے ساتھ کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتی۔

چار سال پہلے یہ غلطی کر کہ اپنا سب کچھ گنوا چکی ہوں۔ بہتر ہو گا کہ آپ چلے جائیں یہاں سے۔" " میں پو چھ رہا ہوں کہ یہ سب کیا ہے؟ اور تمھارے ہاتھ میں!؟؟ کیا ہے یہ سب؟" " اب کس بات کا غصہ !!! اور کس چیز کا خوف ہے آپ کو؟؟ غور سے دیکھیں ، کوئی بستہ ،کوئی کتاب نہیں ان ہاتھوں میں، پھر!!؟یہ دیکھیں،، پونچا ہے میرے ہاتھ میں، اور آپ نے دیکھا نا؟ کہ میں صفائی کر رہی تھی یہاں"۔

اس نے طنزیہ جواب دیا۔ " بند کرو اپنا منہ۔ اور چلومیرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔" " ایسے کیسے چلی جاؤں !!میں ملازم ہوں یہاں۔مزدوری کرتی ہوں یہاں۔مسئلہ آپ کو ہے نا ! تو خود ہی کیوں نہیں چلے جاتے ۔" "تمھیں ہو کیا گیا ہے ؟؟یہ کس لہجے میں بات کر رہی ہومجھ سے!؟ ؟ " "لہجہ نہیں!زندگی تلخ ہو چکی میری۔ کچھ زمینی خداؤں نے ،اپنی انا کی خاطر سب کچھ چھین لیامجھ سے۔

اس سے تو اچھا ہوتا، چار سال پہلے آپ مجھے مار ہی ڈالتے تو آج ، میں اور میرے ساتھ دو ننھی جانیں اس عذاب میں نہ گزر رہے ہوتے۔" "وہی زبان، ، وہی بد تمیزی!" "جی ہاںآ ج بھی وہی زبان ہے میری، اور ہوں میں بد تہذیب۔۔ ظالم کی نظر میں مظلوم بد تہذیب ہی تو ہوتاہے۔ اور اسی بدتہذیبی سے تو ظالم ڈرتا ہے، کیونکہ مظلوم کی بد تہذیبی ہی موت ہے ظالم کی۔۔

" "اسی لیے!اسی لیے تمھیں پڑھائی سے روکا تھا میں نے ، اور بالکل ٹھیک کیا تھا ۔ "" --------------------- "اوہ لڑکی ! اب بس بھی کر دے! تم نے تو میرے سر میں درد کر دیا ہے ، کون سا ملک فتج کر لیا جو اتنا شور مچائے جا رہی ہے!!،دسویں جماعت ہی پاس کی ہے نا تم نے بس!! "۔آج ہی اس کا میٹرک کا رزلٹ اناؤنس ہوا ،اے پلس گریڈ میں نمبر لیے اس نے اور سکول میں بھی اول رہی، اسی خوشی سے وہ پاگل ہوئے جا رہی تھی، اور پچھلے تین گھنٹوں سے بابا کا انتظار کر رہی تھی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس گھر میں ایک بابا ہی اس کی خوشی میں شریک ہو سکتے ہیں۔

"پتا نہیں کب آئیں گے بابا!! کتنے خوش ہوں گے نا!۔ پتا نہیں کہاں رہ گئے ہیں آج؟" "جیسی تو، ویسا تیرا بابا!! پاگل نہ ہو تو!! ۔کب سے شور مچا رکھا ہے۔۔۔ لو پہنچ گے وہ، اب میری جان چھوڑو تم۔" "کہاں رہ گے تھے آپ ، کب سے ویٹ کر رہی ہوں آپ کا۔"بابا کو دیکھتے ہی دور سے چلائی۔ "کیوں ! کیا ہوا .خیریت توہے نا میری جان ؟ " "بابا! بھول گے آپ ؟ رزلٹ نہیں تھا آج میرا؟" اس نے اداس ہو کر بابا سے پوچھا۔

" "کسے بھول سکتا ہوں بھلا! اے پلس رزلٹ کے ساتھ پاس ہوئی ہے میری چھوٹی، ہاں نا؟ بہت بہت مبارک ہو میری جان، اب میٹھاتو پسند نہیں میری بیٹی کو ، تو اس کی جگہ یہ رہا تمہارا گفٹ۔۔" "او مائی گریٹ بابا، لو یوسو مچ۔ تھینکس بابا۔ " "پرنسپل صاحب نے خود مجھے کال کی تھی،تمھاری کامیابی پر بہت خوش تھے وہ ۔ ۔آئی ایم پراؤڈ آف یو مائی گرل۔ ورنہ تمھارے بھائی نے تو ہمیشہ مایوس ہی کیا ہے،اتنا اچھا رزلٹ وہ کبھی نہیں لایا۔

" "جانتے ہیں بابا۔کالج مجھے سکالر شپ بھی دے رہا ہے ۔ اور پھر وہ دن دور نہیں جب میرا خواب پورا ہو گا،، اورمیں بھی پروفیسر بنوں گی۔" بیٹی کی اس بات نے باپ کے چہرے پر رنگ بکھیر دیے۔ " میری بیٹی کا خواب بہت جلد پور اہو گا۔۔۔۔۔۔تمھاری قابلیت پر پورا یقین ہے مجھے بیٹا، مگر تمھارا بھائی!!!!! اچھا چھوڑو ان باتوں کو! جاؤ اور ایک کپ چائے تو بنا لاؤ۔

" "ابھی بنا کے لائی بابا،۔مگر ایک ہی کپ بناؤں گی چائے، صرف ایک کپ۔ جنہیں میری خوشی عزیز نہیں ،ان کے لیے کوئی چائے نہیں۔۔" پاس بیٹھی امی کو تنگ کرنے کے لیے اس نے کہا۔ ================= "چھوٹی اب کالج نہیں جائے گی۔بہت پڑھ لیا اس نے۔اور بابا پلیز!! آپ اس کی حمایت نہیں کریں گے۔۔" "بھیا !! آپ کو کس نے اختیار نے دیا ہے اس کا؟جاؤں گی میں کالج اور ضرور جاؤں گی۔

دیکھتی ہوں کون روکتا ہے مجھے۔اور کم ازکم ماسٹرز تو ضرور کروں گی میں۔" "میں روک کے دکھاؤں گا تمھیں۔" "یہ سب کیا ہے بابا!! آپ کچھ بولیں گے کہ میں خود بات کروں بھیا سے؟۔" "بابا کی طرف کیا دیکھ رہی ہو!! مجھ سے بات کرو۔ اور بابا بتا چکے ہیں مجھے کہ تمھارے کیا ارادے ہیں،میں تو کالج جانے کاحامی بھی نہیں ہوں اور موصوفہ یونیورسٹی اور پھر پروفیسر بننے کا اشتیاق رکھتی ہے۔

" "یہ تم کیا  ضد لے بیٹھے ہو، آخر حرج ہی کیا ہے اگر چھوٹی کالج یا یونیورسٹی چلی جائے تو!!؟۔" "کہا نا بابا!! آپ نہیں بولیں گے۔ کم از کم آپ اس معاملے میں نہیں بولیں گے۔" "یہ تم کس لہجے میں بات کر رہے ہو بابا سے۔ بابا !! آپ بولتے کیوں نہیں۔ آپ بڑے ہیں اس گھر کے۔" "بیٹی ،جب بچوں کی آواز بلند ہونے لگے نا، تو والدین کی عزت اسی میں ہے کہ خود ہی چپ ہو جائیں،اسی میں ان کی عزت ہے۔

" "ٹھیک ہے بابا ! اپنے حق کی یہ جنگ میں خود لڑوں گی اب۔ ہاں بھیا بتاہیں مجھے!۔ میں کالج کیوں نہیں جا سکتی۔اور میرے کالج جانے سے آپ کو کیا مسئلہ ہے۔" "چپ کرائیں اپنی لاڈلی کو بابا! آپ نہیں جانتے کہ باہر کیا کچھ ہو رہا ہے ۔ معاشرہ کتنا خراب ہو چکا ہو آپکو اس کا اندازہ بھی نہیں ہے ۔ " "معاشرہ!!یہ معاشرہ کس بھلا کا نام ہے بھیا! بتائیں مجھے ذرا،، سچ تو یہ ہے کہ معاشرہ نہیں بلکہ مرد خراب ہو چکا ہے، مرد بگڑ چکا ہے ،،،،ہاں بابا! اورآپ کی بیٹی کو معاشرے سے نہیں بلکہ اس مرد سے خطرہ ہے،جس کو بھیا معاشرے کا نام دے رہے ہیں۔

" "کیا بکے جا رہی ہو تم،آپ سن رہے ہیں نا اس کی بکواس!؟۔" "بابا،ہماری میڈم اکژکہتی ہیں کہ جس گھرکی بیٹی کالج و یونیورسٹی جاتی ہوتو اس گھر کا کوئی مرد کسی بھی کالج و یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے آوارہ گردی کرناتو دور کی بات ہے،، اس گھر کا مرد تو گیٹ کے سامنے آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھتا۔اور بابا جانتے ہیں آپ ؟کچھ لوگ بہنوں بیٹیوں کو گھر میں قید کر کے خود آزاد ہو جاتے ہیں آوارہ گردی کے لیے ۔

" "کیا ؟ مطلب کیا ہے تمہارا!! تم کہنا کیا چاہتی ہو؟ بابا! جانتے ہیں یہ مجھ پر کیا الزام لگا نے کی کوشش کر رہی ہے؟ بس ،بہت ہو گیا ، آج ہی تمھارے سسرال کال کرتا ہوں کہ لے جائیں اپنی امانت۔" "ہوش میں ہو تم!خبردار اگر اس کے سسرال سے کوئی بھی فضول بات کہی تو۔آپ ان کا جھگڑا ختم کیوں نہیں کرواتے، تماشا دیکھ رہے ہیں !کچھ بولتے کیوں نہیں آپ؟؟۔

" "بولتا تو وہ ہے ،جسے بولنے کا حق دیا جائے۔اور آج کی نسل تو یہ حق ماں باپ کو بھی نہیں دیتی،اس لیے ہم دونوں چپ ہی رہیں تو بہتر ہو گا،ویسے بھی انہوں نے کب ہماری سننی ہے۔ " "ایسی بات نہیں ہے بابا۔ میں چھوٹی کے فائدہ کی ہی بات کر رہا ہوں نا!! بھول گے کچھ دن پہلے پڑوس میں کیا ہو تھا؟" "بکواس بند کرو تم ، اپنی بہن پر شک کر رہے ہو ؟ جانتے بھی ہو کہ کیا ہوا تھا وہاں۔

" " بس بابا!بس، نہیں جانا کالج میں نے، اور بھیا مجھ پر شک کرنے سے پہلے اس واقعے کی سنگینی کے بارے میں تو سوچ لیتے زرا، افسوس ہو رہا ہے مجھے آپکی سوچ پر۔" ====================== " بابا،پلیز!! آپ مجھ سے کیسے روٹھ سکتے ہیں!! ایک آپ ہی تو میرا واحد سہارا ہیں اس گھر میں۔" وہ بابا کے پاؤں میں بیٹھی ان کو منانے کی کوشش کر رہی تھی۔" "دیکھا آپ نے اپنی لاڈلی کے کرتوت۔

غضب خدا کا !! ۔ کیا سوچیں گے اس کے سسرال والے۔" "امی ! بھول گئی آپ؟ کیا کہا تھا آپ کے بیٹے نے آج! " "چپ ہو جاؤ تم!! ابھی اس کے سسرال کال کریںآ پ اور معذرت کریں اس کی نادانی پر۔آخر تمھیں ضرورت کیا تھی اس پاگل پن کی!" "تم تو چپ کر جاؤ، میں بات کرتا ہوں نا چھوٹی سے۔اور تم،،، جاؤ یہاں سے زرا۔" " اس بے وقوف سے کیا بات کریں گے آپ!بات ہی کرنی ہے تو اس کے سسرال بات کریں ، مجھے تو ڈر ہے وہ کہ یہ سب سچ ہی نہ سمجھ لیں۔

"یہ بول کر اس کی امی وہاں سے چلی جاتی ہے، "پوچھ سکتا ہوں کیا ضرورت تھی اس بے وقوفی کی؟ ٹھیک کہتی ہے تمھاری ماں ، کیا سوچ رہا ہوگا تمھارا سسرال۔ بات صرف تمھاری تعلیم کی تھی نا! تو میں بات کرتا تمھارے بھائی سے ۔" بچپن سے اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا، اور یہ شوق اس وقت جنون بن گیا جب اس نے لیکچرر بننے کا فیصلہ کیا ۔اور اسی خواب نے اسے دن رات محنت پر مجبور کیا اور میٹرک کا شاندار رزلٹ اسی شب وروز محنت کا نتیجہ تھا۔

اس کی منزل بہت قریب ہو چکی تھی اب۔مگر اچانک اس کے بھائی نے اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب چکنا چور کر دیا۔ وہ کسی صورت ہار ماننے والی نہیں تھی، مگر اس کے بھائی نے جب پڑوس میں ہونے والے قصے کا ذکر کیا تو اسے خود اپنے آپ سے شرم آنے لگی۔اور ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ مرد حاکم ہے اور آخری فیصلہ مرد ہی کرتا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد ، اس کے خواب سب ہی تو ختم ہو چکا تھا،اسی لیے اس نے گھر چھوڑنے کا ارادہ کر لیا۔

اس کی منگنی بھائی کے ایک دوست سے طے ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے منگیتر کو کال کی اور کہا کہ اگر مجھ سے شادی کرنی ہے تو آج ہی شام نکاح کر کے لے جائے۔اور اب وہ اپنے بابا کو وضاحتیں دے رہی تھی اور ان کو منانے کی کوشش کر رہی تھی۔ "بابا! میں جانتی ہوں آپ کو میری اس حرکت سے بہت تکلیف ہو ئی ہے اور میں آپ سے بہت شرمندہ بھی ہوں ،مگر میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں ابھی بھی۔

" "مگر بیٹا !! تم ایسے کیسے جا سکتی ہو! مانتا ہوں تمھارا بھائی غلط ہے اور اس نے تم پر جو شک کیا ہے مجھے خود بہت شرمندگی ہے۔ مگر یہ میرا گھر ہے بیٹا۔" "کیاکہا؟ آپ کا گھر ہے بابا!! ؟۔" "ہاں، میں مالک ہوں گھر اس کا۔" " غلط فہمی ہے آپ کی بابا۔ گھر کا مالک تو وہ ہوتا ہے جس کا حکم چلتا ہے۔کاغذ کے ٹکڑے میں اتنی طاقت کہاں کہ کسی چیز کی ملکیت ظاہر کر سکے۔

" "چلو میں کمزور ہی سہی ، مان لیا کے تمھارا بھا ئی ہی حاکم ہے اس گھر کا، مگر بیٹا، کچھ وقت تو دو ہمھیں۔اس طرح راتوں رات تم کیسے جا سکتی ہو بھلا۔ اپنی ماں کا ہی خیال کر لو، کتنی پریشان ہو گئی ہے وہ!! "نہیں بابا۔ وہ دس بجے تک آجائیں گے مجھے لینے ،آج ہی میرا نکاح ہے اور رخصتی بھی۔" " جھگڑا بھائی کے ساتھ ہوا اور سزا ہمیں کیوں دے رہی ہو!!؟بہت غلط کر رہی ہو تم، ہمارے ساتھ بھی اور اپنے ساتھ بھی۔

" "ہاں میں غلط کر رہی ہوں بابا،،، ، تو پھر ، جو ٹھیک تھا اس کی اجازت بھی دی کسی نے مجھے؟، نہیں نا!!! ۔ ۔" "ایک ہی تو گڑیا ہے میری۔کم ازکم دو ماہ تک تو صبر کر لو۔ جہیز اور دوسرا سامان وغیرہ ! تمھیں ان سب چیزوں کی ضرورت پڑے گی، تم اس طرح خالی ہاتھ کیسے جا سکتی ہو !!!" "خالی ہاتھ!! کون سے ہاتھوں کی بات کر رہے ہیں بابا؟؟ وہ ہاتھ تو کٹ چکے ہیں بابا۔

اُن خالی ہاتھوں کو ہی آباد کر نا چاہتی تھی میں، میری تعلیم ان خالی ہاتھوں میں بہاررُت چھوڑ جاتی۔ اور یہ جو آپ جہیز کی بات کر رہے ہیں نا،تو ایسی ڈھیروں چیزوں کا کیا فائدہ جو چند موسموں میں ٹوٹ جاتی ہیں ،بے کار ہو جاتی ہیں۔ بیٹی کو جہیز میں کچھ ڈگریاں بھی تو دی جا سکتی ہیں نا،جہیز تو ایسا ہونا چاہیے نا! جس سے بیٹی ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ مستفید ہو سکے۔

اسی لیے بابا، مجھے کچھ نہیں چاہیے ، کچھ بھی نہیں۔" "کچھ نہیں چاہیے !!؟؟ کیا مطلب ہے تمھارا؟ ۔زندگی کا حصہ ہیں یہ سب چیزیں۔" " آئی ایم سوری بابا!! یہ قیمتی ڈریسز،فرنیچر ، مٹی اور کانچ کے ڈھیروں برتن ،بھلا!!یہ بے جان چیزیں کسی لڑکی کی کو کیا آباد کریں گی؟۔" "بس کرو میری جان، چھوڑو ان باتوں کو اب،،خدا را چپ ہو جاؤ۔" "نہیں بابا، آج مجھے بولنے دیں،آج نہ روکیں مجھے۔

یاد ہے بابا ، جب امی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا، میں دس دن تک امی کے ساتھ ہاسپٹل میں رہی،،، چچی کے اصرار کے باوجود میں ایک دن بھی گھر نہیں لوٹی بلکہ دس دن بعد امی کے ساتھ گھر لوٹی۔ جانتے ہیں ! وہ دس دن امی کی خدمت کر کے مجھے کتنا سکون ملا تھا، مجھے لگا میں نے بیٹی ہونے کا فرض ادا کر دیا ہے۔مگر!جب امی کے علاج کا تین لاکھ بھیا نے اداکیا تو مجھے سخت کوفت ہوئی کاش یہ فرض بھی ایک بیٹی ادا کرتی تو کتنا اچھا ہوتا، ،،مگر بیٹیوں کے ہاتھ تو بالکل خالی ہوتے ہیں نا!۔

اور میں جانتی ہوں کہ آپ کی خواہش ہے کہ ہر سال عمرہ ادا کریں۔ اکثر میں سوچتی ہوں کہ کاش اپنے بابا کی یہ خواہش میں پوری کر سکوں۔جس طرح آپ ہمیشہ سے ہماری ضرورتیں پوری کرتے آئے ہیں ،اس طرح یہ بیٹی بھی آپ دونوں کے بہت کچھ دینا چاہتی تھی بابا،،،، مگر بھیا نے سب کچھ ختم کر دیابابا، کچھ بھی تو نہیں چھوڑا بھیا نے میرے پاس۔" "کچھ بھی ختم نہیں ہوا،، کیوں اداسی کی باتیں کیے جارہی ہو۔

۔ تمھاری یہ سب شکایتیں اپنی جگہ، مگر اللہ نے عورت کو جو ماں بننے کارتبہ دیا ہے نا! دنیا میں اس کا کوئی نعم البدل نہیں،، عورت کی گود میں کھلنے والے چند پھول، اس کی زندگی میں ہر طرف خوشیاں اور بہار لے آتے ہیں۔" "کون سی بہار بابا!اور کہاں کی خوشیاں! ، دو چار پھولوں کے کھلنے کو آپ بہار کہتے ہیں!!؟؟،، دوچار کلیاں تو صحرا میں بھی کھل ہی جاتی ہیں،، مگر،،،، ان چند کلیوں سے صحرا کبھی مہکا ہے ا ور نہ ان سے کبھی صحرا کی ویرانی ختم ہو سکی ہے،،۔

" " کیوں نا امیدی کی باتیں کر رہی ہو،،،،،تمھارے باپ کی دعائیں تمھارے ساتھ ہیں بیٹا۔ تم دونوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہیں گا میں۔ دیکھ لینا، تمھار اہمسفر تمھاری زندگی خوشیوں سے بھر سے گا۔" "شکریہ بابا،،مگر!!وہ ا ہمسفر مجھ سے کوئی سٹیشن پہلے اتر گیا تو!!!" "کیا!! مطلب کیا ہے تمھارا !!؟؟؟یہ کیسی باتیں کر رہی ہو بیٹا!!! اللہ نہ کرے کبھی کوئی حادثہ تم دونوں کو جدا کرے ۔

" "آپ باپ ہیں نا!! اور میں آپ کے جذبات کی قدر کرتی ہوں بابا۔ مگر پریکٹیل مائنڈد ہوں نا۔ اس لیے ایسا سوچ رہی ہوں ۔زرا سوچیں نا بابا!! اگرکسی حادثے نے میرے ہمسفر کو مجھ سے جدا کر دیا تو!! تو باقی کاسفر کیسے کٹے گا؟۔رختِ سفر کا مالک تو مرد ہوتا ہے نا بابا!! ۔مطلب ہمسفر کے ساتھ رختِ سفر بھی نہ رہے توباقی کا سفر کے سے طے کرے گی عورت؟؟۔ چپ کر جاؤ بیٹا۔

میں بہت شرمندہ ہوں کہ میں تمھارے لیے کچھ نہیں کر سکا۔ مانتا ہوں میں کہ تمھاری پریشانی بجا ہے۔ تم ٹھیک کہتی ہو، ہزاروں بیوہ اور طلاق یافتہ عورتیں اسی لیے دوسروں کے گھروں میں برتن دھو رہی ہوتی ہیں کہ ان کے پاس اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اور کوئی راستہ ہی نہیں ہوتا۔مگر اللہ نہ کرے میری بیٹی پر کبھی کوئی مشکل وقت آئے۔" "ارے یہ کیا! !آپ کی آنکھوں میں تو!!!نہیں بابا، میرے سامنے تو ایک آنسو بھی۔

۔۔۔اچھا سور ی بابا ، اب کوئی بات نہیں کروں گی۔ اچھا دیکھیں نا کون سا جوڑا پہن رکھاہے میں نے!! آپ ہی تو لائے تھے نا آج، میرے پاس ہونے کی خوشی میں۔ اور دیکھیں نا!! ہے بھی لال رنگ !!، ،، رخصتی کے لیے بھی تو یہی رنگ پہنتی ہیں لڑکیاں۔" اب کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نہ روک پائی، ضبط اس کا بھی باپ کے سامنے ٹوٹ گیا۔ --------------------------- "اوووو میری پیاری بھابھی جان!، کیسی ہیں آپ،،، اور بچے کہاں ہیں، ، ان کو بھی ساتھ لانا تھا نا؟۔

" "بات مت کرو تم مجھ سے!! بہت ناراض ہوں تم سے،،،، مہینوں گزر جاتے ہیں مگر تمھیں ہماری یاد ہی نہیں آتی۔۔" "بھابھی، ،، یہ لہجہ آپ کے ساتھ بالکل بھی اچھا نہیں لگتا،،ویسے میں جانتی تھی کہ آپ آج ضرور آئیں گی،،،، بھیا نے بھیجا ہے ناآپکو!!!!؟ آئے تھے آج وہ ،،، اور مجھے کام کرتا دیکھ کہ پھر ان کی مردانگی جوش مار رہی تھی۔" "پہلے تو عدت کا بہا نہ تھاتمھارا،، مگر اب تو چھ ماہ گزر چکے ہیں۔

آخر تم ہمارے ہاں کیوں شفٹ نہیں ہو جاتی۔" "بھابی پلیز!! ہمارے بیچ طے ہو چکا تھا کہ اس موضوع بات نہیں ہو گی!! ۔میں بیوہ ہوں،، مگر میں خود کو محتاج نہیں سمجھتی۔اور بھیا کو بھی بتا دیجیے گا، کہ آپ کی چھوٹی اُسی دن بہت بڑی ہو گئی تھی ، جب راتوں رات نکاح کر کے چھوڑ آئی تھی وہ گھر ۔" "تم اکیلی تو نہیں ہو، دو بچے ہیں تمھارے۔ ہزاروں ضرورتیں ہیں زندگی کی !! کیسے کرو گی تم یہ سب!!۔

جانتی ہوں بھائی سے تمھاری زنجش ہو سکتی ہے ، مگر خدا گواہ ہے اور تم بھی جانتی ہو کہ میں تمھیں کتنا چاہتی ہوں، ہیشہ بہن اور دوست ہی سمجھا تمھیں۔" " مجھے آپ کے خلوص پر کوئی شک نہیں بھابھی ۔ اور ہاں آپ لوگ میری فکر کرنا چھوڑ دیں۔ہزاروں لاکھوں بیوہ عورتوں کی طرح میں بھی زندگی گزار لوں گی،، مگر کسے کے سہارے!!! کبھی بھی نہیں۔" "کسی کے سہارے کیا مطلب!!؟؟! ہمارا حق ہے تم پر، تمھارے بچوں پر۔

بہت فکر مند ہیں تمھارے لیے۔بھلا ہم کیسے چھوڑ سکتے ہیں تمھیں اس حال میں!!۔" "پلیز بھابی !!! آپ تو سمجھتی ہیں نا مجھے!!! اور خدا را یہ بھیا کی زبان بولنا بند کریں۔جانتی ہوں میں کہ آپ کو آج بھیا نے بھیجا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ میرے ان حالات کے ذمہ داربھی بھیا ہی ہیں۔ کتنی منتیں کی تھی ، بابا کی بھی ایک نہ سنی بھیا ہے۔آخر کیا ہو جاتا !! اگر میں ماسٹرز کر لیتی تو!!!! کم از کم آج میں اور میرے بچوں کو کسی چیز کی کمی تو نہ ہوتی،اور نہ یہ حال ہوتا۔

جا کے کہہ دیں بھیا سے، کہ میری فکر کرنا چھوڑ دیں۔" "کیا کہا تم نے؟؟۔بھائی ہے وہ تمھارا۔ فکر مند ہے تمھارے لیے،اور اسی نے بھیجا ہے مجھے ۔" "ویسے پوچھ سکتی ہوں ،،، بھیا نے بھیجا کیوں ہے آپکو؟۔" "اصل میں تمھارے لیے کچھ۔۔۔۔۔۔" "چپ کیوں ہو گئی آپ ، بولیں نا۔" "تمھارے بھائی نے کچھ رقم بھیجی ہے تمھارے لیے ۔" "رقم! کیسی رقم بھابھی؟ سیدھی طرح بولیں نا کہ ایک بھائی نے بہن کے لیے خیرات بھیجی ہے۔

اتنے بھی برے دن نہیں ہیں میرے، کہ میرے بچے لوگوں کی خیرات کھائیں گے۔" "جانتی تھی میں!!جانتی تھی کہ تم ان پیسوں کا نام سنتے ہی غصہ آجائے گا۔مگریہ بھی تو سوچو،، مشکل حالات میں میکہ ہی اپنی بیٹیوں کی مدد کرتا ہے،اس میں حرج ہی کیا ہے۔" "واہ بھیا واہ،، پہلے تو ہاتھ کاٹ ڈالے میرے اور اب،،،اب کشکول پکڑا رہے ہیں مجھے،۔۔ایک بات تو بتائیں بھابی زرا۔

۔ بھیا کی ماہانہ تنخواہ کتنی ہو گی؟؟ رکیں میں ہی بتاتی ہوں۔ کم از کم یونیورسٹی ان کو ڈیڑھ لاکھ ماہانہ تو دیتی ہو گی نا۔اور جانتی ہیں بھابی!!! میں ہمیشہ بابا کوکہتی تھی کہ میں نے لیکچرار بننا ہے۔ کچھ سمجھ آئی بھابی؟؟؟ میں بھی آج لیکچرار ہوتی،، ہاں بھابھی ، اگر بھیا مجھے پڑھنے سے نہ روکتے تو آج میں بھی اسی جاب پر ہوتی،،،، اور مجھے اور میرے بچوں کو کسی چیز کی بھی کمی نہ ہوتی۔

ان ڈیڑھ لاکھ پر میرا حق تھا۔اور یہ حق مجھ سے چھیننے والا کوئی اور نہیں میرا ہی بھائی تھا۔ واہ بھیا واہ۔ میرا حق چھین کہ اور انہی میں سے آج دس پندرہ ہزار مجھے بھیک دے رہے ہیں۔" " بھائی کی نفرت میں تو تمھیں کبھی میرے محبت نظر ہی نہیں آئی،،میرے کہنے پر ہی رکھ لو،، ۔" "نہیں بھابی ، مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اور بھیا کو بتا دیجیے گا، ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔

سب کچھ تو ہے ہمارے پاس۔ بھیا کے بچے اگر شہر کے مہنگے سکولوں میں پڑھتے ہیں تو ہم جیسوں کے لیے گورنمنٹ کے فری سکول ہیں۔اگر بھیا کے پاس اپنی گاڑی ہے تو ہمارے لیے پبلک ٹرانسپورٹ بیسٹ ہے۔ اگر بھیا کی فیملی پرائیویٹ کلینک جاتی ہے تو گورنمنٹ ہمارا علاج فری میں کر رہی ہے۔ اب ان سب سہولتوں کے ہوتے ہوئے میں کیوں کسی سے بھیک کے پیسے مانگوں۔

چلی جائیں آپ بھابی، اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں۔" "ٹھیک کہتی ہو تم، سارا قصور تمھارے بھائی کا ہے۔اب جلیں پچھتاوے کی آگ میں ساری زندگی۔" "مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں بھابی،کوئی گلہ نہیں، مگر ہاں، جب جب میرے بچوں کاکوئی خواب ٹوٹے گا، جب جب وہ کسی خواہش کو اپنے اندر ہی دفن کریں گے، تو اس وقت شاید ایک بہن تو اپنے مجرم کو معاف کر دے، مگر ایک ماں کے صبر کا پیمانہ ٹوٹ جائے ====================== "طبیعت تو ٹھیک ہے نا!! اندھیرے میں کیوں بیٹھے ہیں آپ، اور کھانا بھی نہیں کھایا آپ نے۔

" "سر میں درد ہے،،،،،،،،، ، اور پلیز لائٹ آن نہیں کرنا،،، مجھے اندھیرے میں ہی بیٹھنے دو ۔" "جانتی ہوں میں کہ آپ اندھیرے میں کیوں بیٹھنے لگے ہیں۔ آپ نہیں چاہتے کہ کوئی آپ کا شکست زدہ چہرہ دیکھے۔ مرد اپنی طاقت کی نمائش تو ساری دنیا کے سامنے کرتا ہے،مگر یہی مرد اتنا کمزور ہے کہ جب شکست کھا کر گرتا ہے تو اتنی جرا ت نہیں ہوتی کہ کسی کو اپنا منہ دکھا سکے۔

" " ہاں !!میں ہار چکا ہوںآ ج،، تمھارا بھی کوئی حساب باقی ہے تو یہ گرا ہوا شخص تمھارے سامنے پڑا ہے، ۔" " کیسی باتیں کر رہیں ہیں، مذاق کر رہی تھی میں،،،اچھا چھوڑیں نا ان فضول باتوں کو،،، میں آ پ کیلے کچھ اور بناتی ہوں،آپ پلیز کچھ کھا لیں۔ " "کیسے کھا لوں!!! حلق سے کچھ اترے تو نا!!!!۔۔ " " کیا ہوا، آج کچھ زیادہ ہی اداس دکھائی دے رہے ہیں، خیر تو ہے نا" "آج چھوٹی کو دیکھاتھا،،، ، تیز دھوپ میں بس اسٹاپ پر کھڑی تھی، دونوں بچے بھی ساتھ تھے اس کے۔

" "تو آپ نے لفٹ دی اسے؟" " نہیں بیٹھی وہ میری گاڑی میں،،اس کے بچے مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ اپنے ماموں کو نہیں، بلکہ ایک مجرم کو دیکھ رہے ہیں۔میں ہی تو ہوں ان کا مجرم، ان کی اس حالت کا ذمہ دار۔کیا ہو جاتا اگر وہ پڑھ لیتی،تو کم از کم آج،،، وہ اور اس کے بچے اس طرح سڑکوں پر ٹھوکریں نہ کھا رہے ہوتے۔" " یہی اس کے مقدر میں تھا شاید۔" "نہیں، اس کا مقدر بہت اچھا تھا، صرف میری انا، میری ضد نے میری بہن کا سب کچھ برباد کر دیا،،۔

بہت ذہین تھی میری بہن ،،،، اکثر ٹیچر مجھے کہتے کہ اپنی چھوٹی بہن سے شرم کرو۔ جانتی ہونا؟؟وہ لیکچرار بننا چاہتی تھی، بہت ارمان تھا اسے کہ کب وہ گاؤن پہنے گی۔مگر میں نے اس بے چاری کے ساتھ کیا کیا،، اس کے خوابوں کے ساتھ ساتھ اس کا مستقبل بھی برباد کر دیا۔ " " آپ انجانے میں بہت بڑی غلطی کر چکے ہیں۔ " "اور اسی غلطی میں ، میں نے تو اپنی بہن کے ہاتھ ہی کاٹ ڈالے نا۔

آج میں جان چکا ہوں کہ تعلیم تو انسان کے لیے ہاتھ کا کام کرتی ہے۔ اور میری وجہ سے آج اس کے ہاتھ بالکل خالی ہیں، بالکل خالی۔ جانتی ہو،، آج جب میں نے تنخواہ کے پیسے لیے تو مجھے ایسے لگا جیسے ان پیسوں پر میرا حق نہیں ہے۔کیونکہ ہی نوکری تو میری بہن کا خواب تھا۔ " "کیا فائدہ اب ان باتوں کا، آپ پلیز خاموش ہو جائیں نا،،۔" "کیسے خاموش ہو جاؤں میں!!! جانتی ہو،آج ایک کولیگ نے ایک لفافہ دیا مجھے اور کہا کہ یہ کچھ رقم ہے آپکی بیوہ بہن کے لیے۔

میری بہن کے بیوہ ہونے میں میرا کوئی قصور نہ تھا،،، مگر اس کی محتاجی کا ذمہ دار صرف اور صرف میں ہوں۔۔ کاش میری اس غلطی کا کوئی کفارہ ہو تا ، کاش میں آج اپنی چھوٹی کا خواب اس کو لوٹا سکتا،وہ صرف ایک خواب نہیں تھا بلکہ اس کی ساری زندگی کا رخت سفر تھا۔ افسوس اب میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ، کچھ بھی نہیں۔ " "کیوں اپنی جان کے دشمن ہو گے ہیں آپ۔

وہ ماضی اب آپ کو صرف تکلیف ہی سے سکتا ہے، پھر کیوں بار بار ان باتوں کو دہرارہے ہیں۔" "تم ہی بتاؤ کیا کروں میں،، بہت بڑا بوجھ ہے دل پر،،،،، کیا کروں کے سکون مل جائے مجھے؟؟" "آپ کی اس بیماری،، اور پریشاتی کا!! میرے خیال میں اب ایک ہی علاج ہے،،،، نیند کی گولیاں!!!!!، " "ارے پگلی یہ علاج نہیں!!! سزا ہے میری ، ،،میری اس غلطی کی سزا ہے ،جس کی وجہ سے میری بہن کی ساری زندگی محرومیوں میں بسر ہو گی۔اور اب!!!۔۔یہ گولیاں ہی اب میرا مقدر ہیں۔"
تاریخ اشاعت: 2020-03-26

Your Thoughts and Comments